امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ جنگ کی شدت اور مدت پر اختلاف ہے۔ امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کے حکام نے نشان دہی کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جاری جنگ کی شدت میں کمی لانےاور اس جنگ کی مدت اور جنگی شیڈول کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

وائٹ ہاوس کے سلامتی سے متعلق مشیر جیک سلیوان کے جمعہ کے روز مکمل ہونے والے دورہ اسرائیل کے دوران جنگی شیڈول اور ٹائم ٹیبل کے بارے میں تفصیلی بات چیت کے باوجود یہ معاملہ اتفاق پر مکمل نہیں ہوا ہے۔

رواں ماہ کے دوران اسرائیل اور حماس کی جنگ پورے غزہ میں پھیل گئی ہے ، اس بارے میں انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں نے خبر دار کیا ہے کہ مزید تباہی کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب اس صورت حال کی وجہ سے امریکی صدر جوبائیڈن نے اسی ہفتے کہا تھا کہ اسرائیل کی عالمی سطح پرحمایت میں کمی ہو رہی ہے۔ کیونکہ اسرائیل غزہ میں شہریوں کو بچانے کے لیے کوشش کیے بغیر بلا امتیاز بمباری کر رہا ہے۔

امریکی سلامتی کے مشیر سلیوان نے اس پس منظر میں اسرائیل کا جمعرات اور جمعہ کے روز دورہ کیا ہے۔ اس بارے میں امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جنگی سطح کو نیچے لائے اور اپنے مخصوص اہداف تک جنگی آپریشنوں کو محدود کرے۔ جیسا کہ حماس رہنماؤں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس بارے میں امریکہ کے ممتاز اخبار نیو یارک ٹائمز نے چار امریکی حکام کو حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے ۔ تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ سلیوان نے واضح جنگی مدت یا ٹائم کے بارے میں جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

سلیوان کا کہنا ہے ' ایک جنگی مرحلے سے دوسرے میں جانے کے لیے ایک درمیانی مرحلہ ہوگا جو ایک مرحلے کو دوسرے میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان میں ایک واضح اور صاف ہو گا جس میں حماس لیڈر شپ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ مرحلہ انٹیلی جنس کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہو گا۔ '

سلامتی کے مشیر نے کہا ' شرائط اور ٹائمنگز ہی ہمارے اور ان کے درمیان گفتگو کا موضوع تھے ۔ یہ گفتگو وزیر اعظم یاہو اور ان کی ٹیم کے دوسرے ارکان کے علاوہ اسرائیلی فوجی حکام کے ساتھ رہی۔'

سلیوان کے دورے کے دنوں میں اسرائیلی حکام میڈیا کے سامنے بھی اس چیز پر زور دیتے رہے کہ اسرائیل اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک اس کے اہداف مکمل نہیں ہوتے اور حماس کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا ۔

نیتن یاہو نے بھی جیک سلیوان کو یہی بات کہی ہے کہ جنگ مکمل فتح تک جاری رہے گی۔ جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہماری جنگ کئی ماہ سے بھی زیادہ لمبی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی ترجمان ایلون لیوی نے کہا ' اسرائیل جنگ جیت رہا ہے اور حماس کو نیچا دکھا رہا ہے۔ اس کا اندازہ حماس کی طرف سے راکٹ داغنے میں کمی ہونا بھی ہے۔ '

لیکن اہم بات یہ ہوئی کہ اسرائیلی ترجمان کے اس دعوے کے کچھ ہی دیر بعد ییروشلم میں خطرے کے سائرن بجنے لگے اور معلوم ہوا کہ حماس نے راکٹ داغ دیے ہیں۔ ان میں سے تین راکٹ روک لیے گئے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں