امریکی فوج میں سنٹرل کمانڈ کے سربراہ عراق و شام میں فوجی اڈوں کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کی فوجی سنٹرل کمانڈ المعروف 'سینٹ کام 'کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے عراق اور شام میں امریکی فوجی اڈوں کا دورہ کیا ہے۔ علاقے کے لیے اعلیٰ ترین امریکی فوجی کمانڈر کا یہ دورہ اسی ہفتے کے دوران ہوا، تاہم ان کی آمد سے قبل اور ان کی خطے میں موجودگی کے بعد یہ خبر سامنے لائی گئی ہے۔

جنرل کوریلا کے زیر کمان عراق اور شام میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر 17 اکتوبر سے اب تک لگ بھگ 100 راکٹ یا ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ یہ حملے سات اکتوبر سے شروع ہوئی اسرائیل حماس جنگ میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی کھل کر حمایت کے اعلان کے بعد شروع ہوئے۔

جنرل کوریلا نے اس دورے کے دوران عراقی دارالحکومت بغداد بھی گئے جہاں انہوں نے وزیر اعظم السوڈانی کے علاوہ عراقی فوجی حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے واقعات بطور خاص زیر بحث آئے۔ اس سے پہلے انہوں نے الاسد ائیر بیس اور اربیل ائیر فیلڈ کے دورے کیے اور کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس سے تبادلہ خیال کیا۔ انہیں خطے میں امریکی اڈوں اور فوجیوں کے لیے موجود سیکیورٹی ایشوز سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ادھر شام میں امریکی فوجی ذمہ دار فوجی اڈے کا دورہ کیا اور داعش کے بارے میں بریفنگ لی۔ واضح رہے عراق اور شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد بالترتیب 2500 اور 900 بتائی جاتی ہے۔

جنرل کوریلا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ' انہیں یہان آکر زمینی حقائق سے براہ راست آگاہی ہوئی اور بہت مفید معلومات ملیں۔ بلا شبہ یہ یہاں سے ہی ملک سکتی تھیں۔ مجھے یہاں پہنچ کر اپنی فوج کی پیشہ ورانہ اہلیت اور مہارت پر فخر ہوا ہے۔'

خیال رہے جنرل کوریلا نے اسی ہفتے مصر اور اردن کے دورے بھی کیے ہیں ، تاکہ خطے میں سلامتی کے امور اور چیلنجوں کے بارے میں اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا مجھے خطے کو اپنے شراکت داروں کی آنکھوں سے بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے۔'

انہوں نے اپنے اس دورے کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز ' یو ایس ایس کارنے' کو بھی وزٹ کیا۔ اسی یو ایس ایس کانے نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمنی حوثیوں کی طرف سے داغے گئے ڈرونز اور میزائل حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

اب تک عراق میں امریکی اڈوں کو 17 اکتوبر سے 13 دسمبر تک 45 بار نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ شام میں 52 بار امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تاہم ان راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں میں سے زیادہ تر ناکام بنادیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں