اپنی سرزمین پر حماس کے رہنماؤں کے قتل سے متعلق اسرائیلی بیان مسترد کرتے ہیں: ترکیہ

انقرہ کی جانب سے حماس کے رہنماؤں کی مستقل میزبانی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں: ترک نائب وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے نائب وزیر خارجہ احمد یلدیز نے العربیہ چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیہ میں حماس کے کوئی مستقل نمائندے موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ کی جانب سے حماس کے رہنماؤں کی مستقل میزبانی کرنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یلدیز نے وضاحت کی کہ ہمارے ملک میں حماس کے رہنماؤں کے دوروں کا مقصد فلسطینی صفوں کو متحد کرنا ہے۔

ترک عہدیدار نے انقرہ کی جانب سے ترکی کی سرزمین پر حماس کے رہنماؤں کے قتل کے حوالے سے اسرائیلی بیانات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے ترکیہ کی طرف سے فلسطین سے ہوں یا اسرائیل سے کسی بھی شہری کو نشانہ بنانے سے انکار پر زور دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ترکیہ نے الگ الگ بیانات میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے ترک ہم منصب ایردوان نے جمعرات کو فون پر غزہ کی پٹی میں جنگ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ترکیہ دہائیوں سے جاری اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ ترکیہ نے غزہ کی پٹی پر تباہ کن حملے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اس نے اسرائیل کی امریکی حمایت پر بھی تنقید کی۔

ترک ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ایردوان نے بائیڈن کو آگاہ کیا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں