بعد از غزہ جنگ، امریکہ میں آزادی اظہار سے متعلق سوالات ہر زبان پر ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل اور حماس کی جنگ چھڑنے سے نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سٹوڈنٹس میں تقسیم کی لپیٹ میں ہے۔ اس تناؤ کی کیفیت نے طلبہ و طالبات کے علاوہ اساتذہ کی سطح پر بھی امریکہ میں آزادیء اظہار کے ایشو پر سوال اٹھا دیے ہیں، کہ آزادیء اظہار اور نفرت کے اظہار میں کیا فرق ہے۔

ایک ایسی بحث جس کی ضرورت پہلے سے موجود تھی کہ مگر کبھی اس کی عملی صورت نہ بن سکی تھی۔ آخر یہ آزادیء اظہار کیا ہے جسے صرف امریکہ اور مغربی دنیا کے لوگ اپنے ایک حق اور ہتھیار کے طور پر اپنے موقف اور مفاد کے لیےاستعمال کرتے ہیں مگر دوسروں کے لیے اس کی حدود کا مختلف تعین کرتے ہیں۔ اس بحث کو روکنا اب شاید بہت مشکل ہو گیا ہے۔

کیمپس میں احتجاج کا شور مین ہٹن کے مارننگ سائیڈ ہائیٹس میں ایک معمول بن گیا ہے۔ سینکڑوں طلبہ و طالبات فلسطینی رنگوں کو اڑاتے ہوئے اور ان میں سے کچھ روایتی فلسطینی کیفیہ اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کا مطالبہ غزہ میں جنگ بندی کا ہوتا ہے تاکہ فلسطینی شہریوں کی قتل و غارت گری رک جائے۔

غزہ میں اب تک کی ہلاکتیں 18ہزار7 سو سے زیادہ ہو چکی ہیں، جن میں فلسطینی بچوں اور فلسطینی بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ بچوں اور عورتوں کی بمباری سے اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ان احتجاج کرنے والوں کی پریشانی کا بڑا سبب ہیں۔ لیکن ان کا یہ مطالبہ اسرائیل کیونکر مانے گا ۔ ان کا تو اپنا ملک امریکہ بھی جنگ بندی کا سکہ بند مخالف ہے۔

ان احتجاج کرنے والوں میں کئی ایسے ہیں جو ' دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہو گا ' کا نعرہ بھی لگارہے ہوتے ہیں۔ کئی مخالفین کا کہنا ہے یہ تو اسرائیل کے خاتمے کی بات ہے۔ جبکہ نعرہ لگانے والوں کا موقف ہے کہ تاریخی اور زمینی حقیقت یہی ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر ایک زبردستی مسلط کی گئی ریاست پر فلسطین اور اس کی آزادی کو ترجیح ہے۔ یہ نعرہ تو قبضے کے خلاف آزادی کا نعرہ ہے۔

ان کے آس پاس ہی اسرائیل اور غزہ میں جنگ جاری رکھنے والوں کا مظاہرہ بھی چل پڑتا ہے، مگر یہ تھوڑے لوگ ہوتے ہیں۔ انہوں نے نیلے آسمانی رنگ کے جھنڈے پر سفید ' ستارہ داؤدی بنا رکھا ہوتا ہے۔ یہ میوزک بجاتے اور رقص کرتے آتے ہیں۔

ملک کی ممتاز اور باوقار نجی یونیورسٹی کے لیے یہ شورو ہنگام اور جلوس و احتجاج نئی بات نہیں ہے۔ انیس صد ساٹھ کی دہائی میں بھی اس یونیورسٹی کے طلبہ طالبات نے ویتنام جنگ کے خلاف خوب آواز اٹھائی تھی۔

اتفاق سے اس وقت کی امریکی انتظامیہ بھی طلبہ کے موقف کے خلاف اور جنگ کے ساتھ کھڑی تھی۔ گویا امریکی انتظامیہ ہمیشہ جنگ کی حامی رہی اور کولبیا یونیورسٹی کے طلبہ ہمیشہ جنگ مخالف۔

اس عظیم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے بارے میں ایک مضبوط اور توانا بحث بہت پرانی ہے۔ اس یونیورسٹی میں ایڈورڈ سعید جیسے فلسطینی نژاد امریکی مفکر پڑھاتے رہے ہیں۔

2020 میں بھی طلبہ نے اس یونیورسٹی میں اسی پس منظر میں یونیورسٹی کے اسرائیل کے ساتھ تعلیمی تعلق کے خلاف ووٹ دیا تھا، مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے ویٹو کے سے انداز میں مسترد کر دیا تھا۔

اب اکتوبر سے اس یونیورسٹی میں پھر سے ایک تحریک جاری ہے۔ یہ تحریک بالآخر امریکہ میں آزادیء اظہار کی صورت حال پر ایک عظیم بحث کا سبب بنے گی۔

کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والوں کے اس مطالبے کو درست یا غلط کہنے کے بجائے ان طلبہ پر الزام لگایا جارہا ہے کہ یہ یہود مخالف آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ مگر یہ طلبہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ انتظامیہ اسرائیل نواز ہے۔ تاہم بات کی یونیورسٹی انتظامیہ تردید کرتی ہے۔

اضطراب اور تناؤ

جوزف ہاؤلے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ، یونیورسٹی کی فیکلٹی جس قدر تناؤ اور بے چینی آج ہے ماضی میں کبھی نہیں رہی۔

اس سلسلے میں احتجاج کرنے والوں اور ان کی مخالفت میں نکلنے والوں کے درمیان کئی گرما گرما مقابلے ہو چکے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ فلسطین کے حامی گروپوں کو یونیورسٹی قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں معطل بھی کر چکی ہے۔

انگریزی کے استاد پروفیسر جیک ہالبرسٹیم کا اس صورت حال کے بارے میں کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں یونیورسٹی میں بولنے کی آزادی کو دباتے ہوئے کبھی کسی کو نہیں دیکھا تھا۔

تشدد کو دعوت ؟

ہالبرسٹیم کا کہنا ہے یہود مخالفت اور صہیون مخالفت کو آپس میں ملانا کھلی بحث کو تقریباً ناممکن بنا دینے کے مترادف ہے۔ اگر ایک ایسی ریاست پر تنقید نہیں کی جاسکتی جو اپنی سرحدوں کے ساتھ غیر قانونی فوجی آپریشن کر رہی ہو اور سویلیز کو نشانہ بنا رہی ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک ایسے عہد میں ہیں جس میں رائے کے اظہار کا حق نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں