بھارت بیرون ملک اقلیتوں، وکیلوں اور صحافیوں کیخلاف کارروائیاں کرتا ہے، امریکی واچ ڈاگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مذہبی آزادیوں کو مانیٹر کرنے والے امریکی ادارے نے بھارت میں مذہبی آزادیوں کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ کو اس سلسلے میں متوجہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کو نامزد کیا جائے۔ اس سلسلے میں بھارت کی طرف سے بیرون ملک مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کا بطور خاص حوالہ دیا گیا ہے۔

مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے لیے واچ ڈاگ کے طور پر کام کرنے والے اس امریکی ادارے نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف 'یو ایس مذہبی آزادی ایکٹ' کے تحت کارروائی کی جائے۔

امریکہ میں 'یو ایس کمیشن انٹر نیشنل ریلیجئیس فریڈم ' نامی ادارہ ایک آزاد وفاقی ادارہ ہے۔ اسے بھارتی حکومت کی جانب سے صحافیوں ، وکیلوں کے خلاف سرگرم رہنے حتیٰ کہ انہیں خاموش کرانے پر بھی تشویش ہے۔

'یو ایس سی آئی آر ایف' کے کمیشنر سٹیفن شینیک نے بھارتی حکومت کو مبینہ طور پر کینیڈا میں رہنے والے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکے قتل میں ملوث بتایا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں مقیم سکھ رہنما گرپت وانت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا بھی ذمہ دار قرار دیا ہے۔ یہ بات گہری تشویش کے لائق ہے۔

تاہم اس بارے میں واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے فوری طور پر کوئی جواب دیا ہے نہ تبصرہ کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت کا معمول یہ ہے کہ وہ ان باتوں کی تردید کرتی ہے۔

کمشنر کے مطابق 2020 سے لے کر ہر سال اس ادارے نے امریکی دفتر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے خلاف امریکہ کے مذہبی آزادیوں کے ایکٹ 1998 کے تحت کارروائی کی جائے۔کیونکہ ایک تشویشناک ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ خیال رہے اس قانون کے تحت بھارت کے خلاف امریکی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں