ایلون مسک اور ’ڈبلیو ایچ او‘ کے سربراہ کے درمیان گرما گرمی، وجہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متنازعہ امریکی ارب پتی ایلون مسک ایک بار پھر "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے معمول کے تنازعات پر واپس آ گئے ہیں۔ وہ اقدار، اخلاقیات اور دیگرمتنازعہ موضوعات سے متعلق معاملات پر بحث کر رہے ہیں۔اس بار ان کے ساتھ اس بحث میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس موجود ہیں۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ایلون مسک نے دنیا بھرمیں امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئےایک ٹویٹ پوسٹ کی۔ انہوں نے امتیازی سلوک نہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "تنوع، مساوات، اور شمولیت" کی اصطلاح نسل پرستی، جنس پرستی اور دیگر عقائد کے لیے پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ "یہ اخلاقی طور پر اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ نسل پرستی اور جنس پرستی ہے"۔

دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹرنے مسک کی باتوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ “پیارے مسک میں آپ کے نقطہ نظر کو سمجھتا ہوں، لیکن

معذرت کے ساتھ میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ میں آپ کو اپنے اور دوسروں تجربات سے اور بہت سی مثالیں دے سکتا ہوں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "تنوع، مساوات اور شمولیت" بنیادی اصول ہیں جن کا مقصد انصاف، مساوی مواقع اور تمام افراد کے لیے احترام کو فروغ دینا ہے، چاہے ان کے پس منظر، شناخت، نقطہ نظر اور تجربات کچھ بھی ہوں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ "ان اصولوں کا مقصد ایک زیادہ منصفانہ اور جامع معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ آئیے ہم مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں کہ سب کے ساتھ برابری اور وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جائے"۔

اس ٹویٹ پر صارفین کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔بعض نے ایلون مسک اور بعض نے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کے موقف کی حمایت کی گئی تھی۔

پہلی بار نہیں

یہ بات قابل ذکرہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ "ایکس" پلیٹ فارم کے مالک اور گریبیس نے ایک متنازع بحث چھیڑی ہو۔گذشتہ مارچ میں ان دونوں حضرات کے درمیان ان ممالک کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کے اندر اقتدار نہ سونپنے پر جھگڑا ہوا تھا۔

اس وقت مسک نے تنظیم پرتنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ممالک کو عالمی ادارہ صحت کے حوالے نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ ان کا یہ تبصرہ دائیں بازو کے آسٹریلوی سینیٹر میلکم رابرٹس کے ایک ویڈیو کلپ پر آیا، جس میں تنظیم پر تنقید کی گئی تھی۔

دوسری جانب گریبیسس نے اس وقت ایک ٹویٹ میں جواب دیا تھا کہ "ممالک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے لیے اپنی خودمختاری سے دستبردار نہیں ہوتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں