فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرائن کولونا اسرائیل پہنچ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانسیسی وزیرخارجہ کیتھرائن کولونا اسرائیل کے دورے پر پہنچی ہیں۔ ان کے دورے میں غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اسرائیلی قیادت سے بات چیت ایجنڈے پرموجود اہم نکات میں شامل رہے ہیں۔

ان کے لیے فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت کا معاملہ بھی اہمیت کا حامل ہے، نیز فرانسیسی یرغمالیوں کے ابھی تک رہا نہ ہوسکنے کے لیے بھی تشویش ہے، اس لیے فرانسیسی یرغمالیوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات اہمیت کی حامل ہے۔

وزیرخارجہ کولونا نے اتوار کے روز تل ابیب پہنچنے کے بعد اپنے اسرائیل ہم منصب ایلی کوہن کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی سے بھی دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

کیتھرائن کولونا نے ایلی کوہن کو غزہ میں فوری جنگ بندی کے سلسلے میں فرانس کے نئے موقف سے آگاہ کیا ہے کہ کس طرح دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیز یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر سے کیا مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر ایک فرانسیسی یرغمالی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔

یاد رہے فرانس نے ہفتے کے روز اسرائیلی بمباری کی مذمت کی تھی ۔ اسی بمباری کی وجہ سے فرانس کی وزارت خارجہ کا ملازم بھی غزہ میں ہلاک ہوا ہے۔ فرانس کا یہ مطالبہ ہے کہ اسے فرانسیسی شہری کی ہلاکت کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے۔

کولونا اسرائیل میں موجود فرانسیسی یرغمالوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کرنے والی تھیں۔ تاکہ ان جذبات سے آگاہی کے علاوہ انہیں فرانسیسی حکومت کی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششوں سے آگاہ کر سکیں۔ وہ ا پنے دورے کے دوران ایسی جنگ بندی کی حمایت کرنے آئی ہیں جس میں 'سیز فائر' میں پائیداری رہے اور تمام یرغمالی رہا ہوسکیں۔

واضح رہے اسرائیل ان دنوں بین الاقوامی دباؤ کی زد میں آرہا ہے۔ امریکہ جس نے 9 دسمبر کو جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا، اب وہ بھی بدلی بدلی سی بولی بول رہا ہے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں پندرہ ووٹوں میں سے 13 ووٹ جنگ بندی کے حق میں انے کے بعد جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کے حق میں 193 ووٹوں کا آنا اور مخالفت میں صرف 8 ووٹ پڑنا بھی عالمی برادری کی سوچ کا اظہار ہے۔

جبکہ خطے میں صورت حال بھی کم از کم بحیرہ احمر کے حوالے سے پریشان کن بنتی جارہی ہے۔ خود امریکہ اور مغربی ممالک میں رائے عامہ جنگ بندی کے حق میں ہے اور اپنی حکومتوں سے ان کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کہ اب تک اسرائیلی فوج نے لگ بھگ 19000 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔

خود اسرائیل میں عوامی سطح پر جنگ بندی کے لیے آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ تین یرغمالیوں کی اپنی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہونےوالے احتجاجی مظاہرے اسرائیل کے اندر سے ایک عوامی انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فرانس کی وزیر خارجہ اس ساری صورت حال کی بنیاد پر فوری جنگ بندی کی بات کرنے لیے اسرائیل میں موجود ہیں۔

دوسرے کئی مغربی ممالک کی طرح فرانس کو مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیوں کے بارے میں گہری تشویش ہے۔ جیسا کہ کولونا نے اسرائیل پہچنے سے کچھ ہی دیر قبل مغربی کنارے میں فلسطینی کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اب تک مغربی کنارے میں 280 فلسطینیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

کیتھرائن کولونا نے اسرائیل کے لیے روانگی سے پہلے اسی پس منظر میں کہا ' بد قسمتی سے کچھ یہودی آباد کار فلسطینیوں کے خلاف مغربی کنارے میں جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ان آباد کاروں کو لازماً سزا دی جانی چاہیے۔' یورپی یونین کے بعض دیگرملکوں میں بھی یہ یہودی آباد کار ان دنوں مذمتی بیانوں اور گفتگووں کا موضوع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں