باب المندب کے قریب ایک نیا حادثہ، برطانوی بحریہ الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کے جلو میں برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے پیر کو ایک بار پھر ایک نئے حادثے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اس نے اعلان کیا کہ اسے ایک حادثے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جو آبنائے باب المندب کے قریب پیش آیا۔ باب المندب یمنی بندرگاہ مخا سے 30 ناٹیکل میل دور جنوب میں واقع ہے۔

رائیٹرز کے مطابق برٹش میری ٹائم اتھارٹی نے کہا کہ ممکنہ دھماکہ ایک بحری جہاز سے دو سمندری میل کے فاصلے پر ہوا ہے۔

"کسی بھی کارروائی پر خاموش نہیں ریں گے "

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے پس منظر میں یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے خبردار کیا تھا کہ بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

کولونا نے اتوار کو تل ابیب کے اپنے دورے کے دوران کہا کہ "ان حملوں پر چپ نہیں رہ سکتے اور ان کا جواب دیں گے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ کئی آپشنز کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ بحیرہ احمر میں کسی بھی ناخوش گوار واقعے کو دوبارہ وقوع پذیر ہونے سے روکا جا سکے‘‘۔

امریکی محکمہ دفاع کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے تصدیق کی کہ پینٹاگان نے حالیہ دنوں میں طیارہ بردار بحری جہاز ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کے اسٹرائیک گروپ کو خلیج عرب سے یمن کے ساحل سے دور خلیج عدن میں منتقل کر دیا ہے تاکہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کو روکا جا سکے۔

پولیٹیکو کے مطابق، اہلکار نے انکشاف کیا کہ فوج نے حوثیوں پر حملہ کرنے کے آپشن بھی پیش کیے ہیں۔

امریکی تشویش میں اضافہ

اسی تناظر میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے "تہران میں حوثیوں اور ان کے اسپانسرز کی سمندری تجارت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

پینٹاگون کے اندر مشاورت جاری ہےجن میں ایک آپشن یمن میں حوثیوں کے فوجی اہداف پر ممکنہ بمباری کا آپشن بھی شامل ہے۔

تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی خطے میں ایران اور اس کے ایجنٹوں کے ساتھ ایک وسیع جنگ کو ہوا دے سکتی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں یمن کے ایران نواز حوثی گروپوں نے اسرائیل کی طرف جانے والے تمام بحری جہازوں پر باب المندب سے گذرتےان پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت پرخاموش نہیں رہ سکتے اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایرانی بحری جہازوں پر حملے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا جواب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں