اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے قریب نہیں پہنچے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جہاں اسرائیل اور فلسطینی تحریک حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک اور معاہدہ قریب ہے۔ جان کربی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے قریب نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم قیدیوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک نئے معاہدے تک پہنچنے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کار کام کر رہے ہیں اور یہ ایک نتیجہ خیز بات چیت ہے۔

جان کربی نے زور دے کر کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے صحیح راستہ ہے۔

اس سے قبل پیر کو دو امریکی حکام نے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز آج وارسا میں قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ سے ملاقات کریں گے تاکہ قید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ نئے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ویب سائٹ ’’Axios ‘‘ کے مطابق یہ ملاقات وارسا میں قطری وزیر اعظم اور موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کی ایک اور یورپی دارالحکومت میں ملاقات کے تین دن بعد ہوگی۔ اس ملاقات میں قطر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ممکنہ نئی ڈیل کی شرائط پر اتفاق کرنا اس بار زیادہ مشکل ہوگا۔

دریں اثنا حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے پیر کو بیروت میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حماس مصر اور قطر کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے پیش کئے گئے کسی بھی اقدام کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے ولیم برنز نے گزشتہ ڈیل کی دلالی میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ غزہ سے 100 سے زیادہ یرغمالیوں کو رہا کیا گیا۔ رہا ہونے والوں میں کئی امریکی بھی شامل تھے۔ بدلے میں اسرائیل نے اپنے ہر یرغمالی کے بدلے فلسطین کے تین قیدی رہا کئے تھے۔

ادھر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اسرائیلی فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے تینوں قیدیوں کو جان بوجھ کر ہلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں