حملے بڑھتے ہی ڈنمارک کے میرسک نے بحری جہازوں کارخ بحیرۂ احمر سے افریقہ کی طرف موڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ڈنمارک کے میرسک نے منگل کو کہا کہ اس کے جن بحری جہازوں کو جنوبی بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن سے گذرنا تھا، اس علاقے میں بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے اب وہ براستہ راس امید (کیپ آف گڈ ہوپ) دوسرے مقام سے سفر کریں گے۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ پیر تک میرسک نے تقریباً 20 بحری جہازوں کو سفر کرنے سے روک دیا جن میں سے نصف خلیجِ عدن کے مشرق میں اور بقیہ نہر سویز کے جنوب میں بحیرہ احمر میں یا اس کے شمال میں بحیرۂ روم میں انتظار کر رہے تھے۔

جمعرات کے روز عمان کے سلالہ سے سعودی عرب میں جدہ جاتے ہوئے میرسک کنٹینر جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا لیکن میزائل اسے نہیں لگا اور کمپنی نے جمعہ کو بحیرۂ احمر کی طرف جانے والے اپنے تمام جہازوں کو روکنے کا فیصلہ کر لیا۔

میرسک نے ایک بیان میں کہا، "ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ بین الاقوامی بحری سلامتی کے لیے مشترکہ کوششیں اور علاقے میں صلاحیت کی تعمیر ایک ایسے حل کو آگے بڑھانے کے لیے ہیں جو بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کے علاقے اور نہر سویز کو مستقبل قریب میں ٹرانزٹ کی واپسی کے قابل بنائے۔"

میرسک نے مزید کہا، "دریں اثناء براستہ راس امید (کیپ آف گڈ ہوپ) سفر کرنے والے جہاز بالآخر ہمارے صارفین اور ان کی سپلائی چینز کے لیے تیز تر اور زیادہ قابلِ پیشگوئی نتائج فراہم کریں گے۔"

ترسیلی گروپ نے کہا کہ مستقبل میں اس علاقے کے لیے طے شدہ جہاز رانی کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں