غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل بارے قرارداد پر سکیورٹی کونسل میں ووٹنگ آج متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جاری جنگ کے بارے میں ایک بار پھر بحث جاری ہے۔ تاہم سلامتی کونسل نے اس بارے میں ووٹنگ کو آج منگل کے روز تک موخر کر رکھا ہے۔ اس ایک دن کے التواء کی وجہ قرارداد کے مسودے پر اتفاق کے امکانات کو بڑھانا بتایا گیا ہے تاکہ ارکان کو مزید غور اور بحث کا موقع مل سکے۔

قرارداد متحدہ عرب امارات کی طرف سے متعارف کرائی گئی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں دشمنی کا جلد خاتمہ کیا جائے، امارات کی طرف سے اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے پیر کا دن مقرر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ مگر اسے ایک دن تک موخر کر دیا گیا کہ ووٹنگ 19 دسمبر کو کرائی جائے گی۔

زیر بحث قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس امدادی اداروں کو غزہ کے اندر تک امدای اشیاء پہنچانے کی اجازت دیں۔ یہ اجازت زمینی راستوں کے علاوہ بحری اور فضائی راستوں سے بھی دی جائے۔ نیز اس امدادی آپریشن کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر مانیٹرنگ کا بھی ااہتمام کیا جائے۔

اس قرارداد کے مستقبل کے بارے میں سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تو حتمی طور ہر طے کیے جانے والے مذاکرات میں ہی ہو گا کہ اس قرارداد کو کس طرح آگے بڑھانا ہے۔

اس بارے میں امریکہ کے ایک ذمہ دار نے کہا 'ہم نے سارے معاملے کو تعمیری اور شفاف انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے تاکہ سب کا ان چیزوں پر اتفاق ہو جائے جو غزہ میں لے جانا ممکن ہے۔' امریکی سفارت کار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی کوشش ہے کہ اس قرارداد کی زبان کو قدرے نرم کیا جائے۔

تاہم اس قرارداد کا جو متن 'رائٹرز' کی نظر سے گذرا ہے اس میں لکھا ہے 'فوری طور پر دشمنی کے خاتمے کے ساتھ محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی ممکن بنائی جائے۔'

یہ اس پس منظر میں اپم ہے کہ سات اکتوبر سے ایک طویل، انتھک اور اندھی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے جو تباہی ہو چکی ہے اس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے حکام اور ادارے ایک عظیم انسانی تباہی میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، نیز بھوک اور بیماری کی وجہ سے بہت ساری تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

اس تباہی سے اور موت کی زد میں 23 لاکھ کی آباد کی اکثریت آ چکی ہے۔ بے گھر ہو چکے لوگوں کی تعداد 19 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ اموات بھی اب بیس ہزار کو چھونے والی ہیں۔

اس قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹوں کی بغیر ویٹو کے حمایت درکار ہو گی۔ اس سے قبل 9 دسمبر کو امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو 15 میں 13 ووٹوں کی حمایت ملنے کے باوجود ویٹو کر دیا تھا، اب یہ ایک اور قرارداد لائی گئی ہے۔

امریکہ بھی اسرائیل کی طرح غزہ میں جنگ بندی کے حق میں نہیں ہے۔ تاہم اب منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں منگل کو یعنی آج کسی وقت ہونے کا امکان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں