اسرائیل بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لے سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو روس میں اسرائیلی سفیر الیگزینڈر بین زوی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل حوثی ملیشیا کے اسرائیلی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے عمل میں حصہ لےسکتا ہے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ "اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل یقیناً اس میں شرکت کرے گا، کیونکہ حوثی حملوں سے کسی حد تک، اسرائیل کی اقتصادی ناکہ بندی ہو رہی ہے اور اس سے اسرائیل کی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہم یہ کیسے کریں گے؟۔ ہم یہ سب کچھ دوسرے ممالک کے ساتھ ملک کر کریں گے تاکہ حوثیوں کی طرف سے لاحق خطرے سے مل کر نمٹا جا سکے۔

باب المندب
باب المندب

اسرائیلی سفیرنے کہا کہ بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے آپریشن ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حملے پورے خطے کی معیشت کو متاثر کریں گے۔ حوثیوں کے حملوں کی روک تھام صرف ہمارے بارے میں نہیں بلکہ مصر کے لیے بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر بحری جہاز بحیرہ احمر سے نہیں گذرے تو تمام مصنوعات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔اس سے مختلف ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچے گا۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس سے صرف اسرائیل کا تعلق ہے، یہ عالمی برادری کا مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے اب ایک اتحاد منظم کیا جا رہا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں