امریکہ چین کو حوثی مخالف بحری ٹاسک فورس میں شامل کرنے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک سینئر امریکی سفارت کار نے کہا کہ امریکہ چین کو اس بحری ٹاسک فورس میں شامل کرنے کا خواہاں رہا ہے جس کا اعلان اس ہفتے بحیرۂ احمر میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیا گیا تھا۔

امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے پیر کو آپریشن پراسپیریٹی گارڈین کا اعلان کیا جو ان کے مطابق بحیرۂ احمر میں یمن سے "انجام سے بے پرواہ حوثی حملوں" کے جواب میں تھا۔

بحری ٹاسک فورس میں شامل ہونے والے ممالک میں برطانیہ، بحرین، کینیڈا، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، ناروے، سیشلز اور اسپین شامل ہیں۔ امریکی حکام نے کہا کہ دیگر ممالک نے اثاثوں یا انٹیلی جنس سمیت مختلف قسم کی امداد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے لیکن انہوں نے اپنا کردار نجی رکھنے کا انتخاب کیا ہے۔

تاہم امریکہ نے بیجنگ کی شمولیت کے حوالے سے امید کی تھی کہ چینی یمن کے حوثیوں پر اپنے حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈال سکیں گے۔

ٹاسک فورس پر ہونے والی گفتگو سے واقف حکام نے بتایا کہ بعد میں مزید ممالک کو شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

سینئر امریکی سفارت کار نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "چینیوں نے ہمیں انکار نہیں کیا۔" سفارت کار نے مزید کہا جسے میڈیا سے بات کرنے کا اختیار نہیں تھا، "یہ بہت بڑی بات ہوگی اگر ہم چینیوں کو دستخط کرنے پر آمادہ کر سکیں۔"

چین کی شرکت کے بارے میں سوال پر محکمۂ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے کہا واشنگٹن حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے بیجنگ کے تعمیری کردار کا خیرمقدم کرے گا۔

ملر نے یہ بھی کہا کہ سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران حوثی حملوں سے امریکہ، چین اور ہر دوسرے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا معاملہ اٹھایا۔

امریکہ اور چین کے درمیان کئی مہینوں تک فوجی تعلقات منقطع رہے جب چین دیگر معاملات کے علاوہ امریکہ کی پالیسی اور تائیوان کی حمایت سے عاجز آ گیا۔ لیکن دونوں ممالک نے گذشتہ ماہ صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے دوران باہمی فوجی تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یمنی ملیشیا نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ ختم ہونے تک اسرائیل جانے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنائے گی۔ انہوں نے اسرائیل اور اس علاقے سے گذرنے والے جہازوں پر ڈرونز، میزائل اور راکٹ پھینکے ہیں۔ امریکی جنگی جہازوں نے ان میں سے متعدد کو مار گرایا ہے اور فرانسیسی اور برطانوی فوجیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی حوثیوں کے حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

امریکہ کے زیرِ قیادت بحری ٹاسک فورس میں شامل نہ ہونے والے متعدد ممالک نے منگل کو حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔

جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور اور آسٹریلیا سمیت ممالک نے کہا، "اس طرح کے رویئے سے خوراک، ایندھن، انسانی امداد، اور دیگر ضروری اشیاء کی دنیا بھر کے مقامات اور آبادیوں تک ترسیل کو بھی خطرہ ہے۔"

انہوں نے کہا، "زیرِ دستخطی تمام ریاستوں کو حوثیوں کی سہولت یا حوصلہ افزائی سے باز رہنے کی مزید ترغیب دیتے ہیں۔ ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے جو ان جہازوں پر لہرانے والے پرچموں سے ماورا کئی ممالک کو متأثر کرتے ہیں۔" نیٹو اور یورپی یونین نے بھی مشترکہ بیان پر دستخط کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں