مودی امریکہ میں سکھ علاحدگی پسند کے قتل کے منصوبے کی معلومات کا جائزہ لینے پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سکھ شہری کی امریکی سرزمین پر مبینہ قتل کی سازش کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بھارت کے ساتھ کسی واقعے سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرے گا تو بھارتی حکام لازمی طور پر اس کی تحقیقات کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی محکمۂ انصاف نے کہا تھا کہ امریکہ میں 52 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جو بھارت کے ایک سرکاری ملازم کے ساتھ مل کر نیویارک میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

گروپتونت سنگھ پنن کو بھارت نے مطلوب دہشت گرد قرار دیا تھا، وہ بھارت میں ایک آزاد سکھ ریاست کے حامی ہیں اور اس کے لیے مہم بھی چلاتے رہے ہیں۔

انہیں 18 جون کو کینیڈا میں سکھوں کی سب سے بڑی آبادی والے شہر وینکوور کے مضافاتی علاقے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ’اگر ہمارے کسی شہری نے کچھ اچھا یا برا کیا ہے تو بھارت اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے، بھارت قانون کی حکمرانی کے لیے پر عزم ہے۔

قبل ازیں بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ معاملے کے تمام متعلقہ پہلوؤں کو دیکھنے کے لیے ایک ’اعلی سطحی‘ انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

مودی کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وائٹ نے کہا تھا کہ وہ امریکی سرزمین میں سکھ شہری کے قتل کی مبینہ سازش کو ’انتہائی سنجیدگی‘ کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور اس معاملے کو بھارتی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے امریکی اور کینیڈین شہری گروپتونت سنگھ پنون کو قتل کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے سکھ رہنما کے قتل کا منصوبہ ناکام بنائے جانے سے دو ماہ قبل امریکہ کے پڑوسی ملک کینیڈا نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ اس کے پاس شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کینیڈا میں بھارتی سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کا ہاتھ ہے۔

اس بیان کے بعد بھارت اور کینیڈا کے درمیان بڑا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

نئی دہلی نے کینیڈا کے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا تھا، مودی نے فنانشل ٹائمز کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کو ’بیرون ملک مقیم بعض انتہا پسند گروپوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ عناصر آزادی اظہار کی آڑ میں ڈرانے دھمکانے اور تشدد پر اکسانے میں مصروف ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں