ازدواجی تنازع، الازھر یونیورسٹی کے پروفیسر نے پھندا لے کر خودکشی کرلی

33 روز قبل جھگڑا ہوا تو بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور طلاق کی درخواست کردی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں الازھر یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے بیوی سے جھگڑے کی بنا پر پھندا لے کر اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی ختم کرلی۔ علاقے میں سوگ کی کیفیت پھیل گئی۔ قاہرہ گورنری کے علاقے ’’القطاميہ‘‘ میں ایک اپارٹمنٹ کے اندر سے لاش ملی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ لاش جامعہ الازہر سے وابستہ پروفیسر کی ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پروفیسر نے نفسیاتی بحران سے گزرنے کی وجہ سے جان لینے کا فیصلہ کیا۔ واقعہ کے حوالے سے ضروری رپورٹ تیار کر لی گئی۔

تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کردی کہ پروفیسر کام کے دباؤ کی وجہ سے کچھ عرصے سے سکون آور ادویات لے رہا تھا اور حالات اس وقت بگڑ گئے جب خودکشی سے 33 دن قبل اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا۔ جس کے باعث اس کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی اور طلاق کے لیے درخواست دائر کردی۔

ایمبولینس سروس نے اطلاع دی کہ الازہر یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو سانس لینے میں تکلیف ہے۔ جب ایمبولینس پہنچی تو پیرامیڈک نے اطلاع دی کہ اس نے پھندا لیکر خودکشی کرلی ہے۔

یاد رہے کہ یونیورسٹی کے پروفیسر کی عمر 39 سال ثابت ہوئی ۔ وہ الازہر یونیورسٹی کے شعبہ شہری منصوبہ بندی میں کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے آفیشل پیج نے ان کے لیے ایک مرثیہ شائع کیا ہے۔

واقعہ کا پتہ مقتول کی بہن کے بیٹے کو اس وقت لگا جب وہ اسے چیک کرنے گیا کیونکہ پروفیسر نے پورے دو دن سے فون کا جواب نہیں دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں