اسرائیل حماس کے خاتمے اور کم شہری ہلاکتوں کو ساتھ لیکر چلے: امریکہ

امید نہیں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا معاہدہ جلد مکمل ہو جائے گا: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے وسکونسن کے علاقے میلوکی کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ انہیں امید نہیں ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے گا تاہم ہم اس کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بدھ کے روز ہی امریکی وزیر خارجہ بلینکن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی تھی جب کہ امریکہ نے اس سلسلے میں پہلے اپنا ویٹو پاور استعمال کیا تھا۔ بلنکن نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اس پر پوری شدت سے کام کیا۔ مجھے امید ہے کہ ہم تسلی بخش نتائج تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بلنکن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ اسرائیل غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کو کم رکھتے ہوئے حماس سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کا پابند ہے۔

بلنکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو حماس کے خطرے کو ختم کرنے اور غزہ میں شہری ہلاکتوں کو کم کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ دونوں کام کرے اور دونوں چیزوں کو ایک ساتھ کرنے میں اس کا سٹریٹجک مفاد ہے۔

بلنکن نے اس بات پر بھی غور کیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم پر بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد دنیا کو صرف اسرائیل پر نہیں بلکہ حماس پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بلنکن نے کہا کہ اس بارے میں خاموشی ہے کہ حماس کیا کر سکتی ہے۔ اگر ہم معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کی تکالیف کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو حماس کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ اچھا ہو گا اگر دنیا بھی اس تجویز پر متحد ہوجائے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ نئی جنگ بندی کے حوالے سے جاری بات چیت انتہائی سنجیدہ ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے مزید کہا کہ یہ بہت سنجیدہ بات چیت اور گفت و شنید ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس کا نتیجہ بھی نکلے گا۔ یہ وہ چیز ہے جس پر ہم گزشتہ عارضی جنگ بندی کے اختتام کے بعد سے کام کر رہے ہیں۔ کربی نے تصدیق کی کہ اردن سے غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچنا ممکن ہو گیا ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی منظوری پر بات کرنے کے لیے مصر پہنچے تھے جس میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تحریک حماس کو ختم کرنے سے پہلے جنگ بندی کو مسترد کر دیا تھا۔ .

اسرائیل نے محصور غزہ کی پٹی پر اپنی شدید بمباری کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جنگ کو 75 دن ہوگئے ہیں۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ہے۔ اس سے قبل 24 نومبر سے 30 نومبر تک سات روز کے لیے عارضی جنگ بندی کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں