ماہی گیرکا نو سال قبل لاپتا ہونے والے طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ماہی گیر نے نو سال قبل ملائیشیا کے اس مسافر طیارے کا ملبہ دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے جو 8 مارچ 2014ء کو جنوبی آسٹریلیا کے ساحل میں غائب ہوگیا تھا۔

آسٹریلوی حکام نے لاپتا مسافر جہاز کا ملبہ تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر اسے اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔

لیکن ایک تجربہ کار آسٹریلیائی ماہی گیرنے نئی معلومات کا انکشاف کیا ہے۔

ریٹائرڈ فشرمین کیٹ اولور نے دعوی کیا ہے کہ اسے MH370 لاپتہ ملائیشین طیارے کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ملا ہے۔

"کاش میں اسے نہ دیکھتا"

انہوں نے کہا کہ "میں کہتا ہوں کہ کاش میں نے اسے نہ دیکھا ہوتا مگریہ سچ ہے کہ وہ طیارے کا بازو تھا"۔

77 سالہ ماہی گیرنے مزید کہا کہ وہ آسٹریلیائی حکام کو اس جگہ کےبارے میں معلومات دے سکتا ہے جہاں اس کے پائے جانے کے نو سال سے زیادہ کے بعد اس کے ایک پرکا پتہ چلا تھا۔ بزرگ ماہی گیر کا کہنا ہے کہ وہ اس ملبے کے بارے میں اس لیے بتانا چاہتے ہیں کہ تاکہ اس بدقسمت طیارے کے حادثے میں مرنے والے مسافروں کے اہل خانہ کو مدد مل سکے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے کئی سال قبل بندرگاہ پر واپس آتے ہی آسٹریلیائی میرین سیفٹی اتھارٹی (اے ایس اے) سے رابطہ کیا لیکن آسٹریلیائی میڈیا کے مطابق حکام کو کوئی توجہ نہیں ملی۔

دوسری طرف آسٹریلیائی عہدیداروں نے کہا کہ اس شخص کو غالبا ایک شپنگ کنٹینر کا ایک حصہ ملا تھا جو اس علاقے میں روسی جہاز سے گر گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں