ترکیہ میں داعش سے تعلق کے شبہ میں 304 افراد زیرِ حراست

داعش کا 2014 میں عراق اور شام کے ایک تہائی حصے پر کنٹرول تھا، مار بھگانے کے باوجود باغیوں کے حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک وزیرِ داخلہ علی یرلیکایا نے جمعہ کو کہا کہ حکام نے 32 صوبوں میں کارروائیوں میں شدت پسند گروپ داعش سے تعلق کے شبہ میں 304 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

یرلیکایا نے سماجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مشتبہ افراد کی اکثریت کو ترکیہ کے تین بڑے شہروں انقرہ، استنبول اور ازمیر سے حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’آپریشن ہیروز-34‘ ملک بھر میں بیک وقت کیا گیا۔

انہوں نے کارروائیوں کی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنے لوگوں کے امن اور اتحاد کی خاطر کسی دہشت گرد کو آنکھیں کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اپنی سکیورٹی فورسز کی بھرپور کوششوں کے ساتھ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔" اس فوٹیج میں پولیس کو اپارٹمنٹس اور عمارتوں میں داخل ہوتے اور مشتبہ افراد کو گاڑیوں میں گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

داعش کا 2014 میں اپنے عروج پر عراق اور شام کے ایک تہائی حصے پر کنٹرول تھا۔ اگرچہ اسے مار بھگایا گیا لیکن یہ باغیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس نے ترکیہ کے طول و عرض میں متعدد حملے کیے ہیں جن میں یکم جنوری 2017 کو استنبول میں ایک نائٹ کلب پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یکم اکتوبر کو کرد عسکریت پسندوں کی طرف سے انقرہ میں سرکاری عمارتوں کے قریب ایک بم دھماکے کے بعد حکام نے حالیہ ہفتوں میں داعش اور کرد عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

ترکیہ باقاعدگی سے کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف اپنے ملک اور شمالی عراق میں کارروائیاں کرتا ہے جسے وہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں