اسرائیل لبنان جنگی خدشے کے پیش نظر صدر جوبائیڈن کے ٹاسک فورس کو احکامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن یہ واضح طور پر سمجھ اور بول رہے ہیں کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ کی حمایت نہیں کریں گے۔ اگر ایسی کوئی جنگ شروع کی گئی تو اسرائیل کو یہ جنگ اپنے طور پر ہی لڑنا پڑے گی۔

صدر جوبائیڈن نے اپنے معاونین اعلیٰ میں سے ایک کو ہدایات دی ہیں کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگی خدشات کو روکا جائے۔ اموس ہوچسٹن امریکی سفارتکاروں اور حکام کی ٹیم کی قیادت کریں گے تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگی خطرات کو روکنے کے لیے امریکی کوششوں کو بڑھا سکیں جیسا کہ امریکہ کو تشویش ہے کہ نیتن یاہو ایک نیا جنگی محاذ کھولنا چاہتے ہیں۔

ہوچسٹین اس سے پہلے امریکی صدر کے خصوصی نمائندہ برائے انفراسٹرکچر اور توانائی رہ چکے ہیں اور دفتر خارجہ سے وائٹ ہاؤس میں ٹرانسفر ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس وقت صدر کے سینیئر مشیر برائے توانائی اور سرمایہ کاری ہیں۔ ان کا لبنان اور اسرائیل کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کا پس منظر بھی ہے کہ انھوں نے اوباما ایڈمنسٹریشن کے زمانے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔

صدر جوبائیڈن نے اپنی مدت صدارت شروع ہونے کے فوری بعد ہوچسٹن سے پوچھا تھا کہ آیا اسرائیل اور لبنان کے درمیان سمندری حدود پر معاہدہ کرایا جاسکتا ہے۔ تاکہ توانائی کے ذخائر بغیر تنازعے کے استعمال میں لائے جا سکیں۔

صدر جوبائیڈن اب چاہتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی مدت صدارت کے دوران اسرائیل اور لبان کے درمیان ایک نئی جنگ نہیں ہوگی۔ اسی مقصد کے لیے وہ ہوچسٹن کو دوربارہ ایک نئی ذمہ داری پر لائے ہیں۔ انھوں نے ہوچسٹن سے کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال کو ٹھنڈا کرنے پر کردار ادا کریں اور یہ متعلقہ اتحادیوں کو باور کرادیں کہ امریکہ ایسی کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

اس سلسلے میں امریکہ شروع ہی سے ان تمام 'ایکٹرز' کو یہ باور کرا چکا ہے جو اسرائیل حماس لڑائی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں اور ایک نئی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے 'العربیہ' کو ایک تحریری بیان میں بتایا امریکہ نے خطے میں جنگی خطرات روکنے کے لیے اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ علاقے میں مکمل امن اور سکون رہے۔ اس کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں موجود حکام اس بات کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ وہ لبنان اور اسرائیل میں اپنے ہم منصبوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ خطے میں جنگ بڑھنے کا خدشہ روک سکیں۔

امریکی حکام نے 7 اکتوبر کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اسرائیل کا دورہ کیا تاکہ وہ غزہ کی جنگ کے دوران حزب اللہ پر پیشگی حملوں کے تحت کوئی جنگ مسلط نہ کردے۔ کیونکہ امریکہ کو خطرہ تھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو خطے میں ایک بڑی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

اسرائیل کے اعلیٰ حکام بشمول وزیر اعظم کے لبنان کے حوالے سے بہت سخت بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیل کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان کو پتھر کے زمانے میں بھیج دیا جائے گا۔ لیکن امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ اگر اسرائیل نے ایسی کوئی حرکت کی تو اسے یہ جنگ خود ہی لڑنا پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں