ایران بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پرحملوں میں "بڑے پیمانے پر ملوث" ہے: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں "بہت حد تک ملوث" ہے اور اس کے پاس موجود انٹیلی جنس یمن کی حوثی تحریک کو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے میں مدد کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکی انٹیلی جنس معلومات شائع کیں جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ تہران نے حوثیوں کو ٹیکٹیکل انٹیلی جنس معلومات کے علاوہ ڈرون اور میزائل فراہم کیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ امریکی سروسز نے بصری تجزیے کے ذریعے ایرانی KAS-04 ڈرونز اور حوثیوں کی جانب سے لانچ کیے جانے والے ڈرونز کے درمیان تقریباً ایک جیسی خصوصیات پائی ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی میزائلوں او حوثی میزائلوں کے درمیان ایک جیسی خصوصیات ہیں۔ حوثی سمندرمیں ایران کی طرف سے فراہم کردہ نگرانی کے نظام پر بھی انحصار کرتے ہیں۔

"ایران ملوث ہے"

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایران حوثیوں کو اس لاپرواہی سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واٹسن نے بیان میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ ایران بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں گہرا ملوث ہے۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "حوثیوں کے لیے ایرانی حمایت مضبوط ہے اور اس میں جدید فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس مدد، مالی امداد اور تربیت کی فراہمی شامل ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایران کی طویل مدتی مادی حمایت اور حوثیوں کی خطے میں عدم استحکام کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں