صدر جوبائیڈن نے 886 ارب ڈالر کے دفاعی پالیسی بل پر دستخط کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جوبائیڈن نے 886 ارب ڈالر کے امریکی دفاعی پالیسی بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

انھوں نے یہ دستخط جمعہ کے روز کیے ہیں۔ دفاعی پالیسی بل میں فوجی اخراجات، یوکرین کے لیے امداد اور بحر الکاہل میں چین کو پیچھے دھکیلنے رکھنے کی پالیسیاں شامل ہیں۔

واضح رہے یہ بل گزشتہ ہفتے ایوان نمائندگان میں زیر بحث رہا۔ 'نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت کانگریس کی منظوری کے لیے گزشتہ ہفتے بھجوایا گیا تھا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لا گیا ہے۔'

دفاعی پالیسی بل میں سروس ممبران کی تنخواہوں میں پانچ اعشاریہ دو فیصد اور قومی سلامتی کے بجٹ میں 3 فیصد اضافہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 886 ارب ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 3100 صفحات پر مشتمل بل میں چینی کمپنیوں کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے جن کے بارے میں محکمہ دفاع سمجھتا ہے کہ ان کمپنیوں سے خریداری نہیں کی جائے گی۔

اس بل کی ایک شق کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کی طرف سے اعتراض کا سامنا رہا۔ جس میں گھریلو نگرانی کی اختیار میں چار ماہ تک کے لیے توسیع شامل تھی۔ اس شق کے ذریعے قانون سازوں کو پروگرام میں اصلاحات لانے یا اسی کو برقرار رکھنے کے لے وقت دیا گیا۔

واضح رہے یہ فارن انٹیلی جنس سرویلنس ایکٹ کی دفعہ 702 کہلاتی ہے۔ واضح رہے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اعتراضات کے باوجود اس بل پر صدر جوبائیڈن نے دستخط کر دیے ہیں۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 تک یوکرین 'سیکورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو' کی مدد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں