بھارت کے قریب اسرائیلی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد باب المندب کے قریب نیا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کے ساحل پر اسرائیل سے منسلک ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسے آبنائے باب المندب کے قریب بھی ایسے ہی ایک واقعے کی اطلاع ملی ہے۔ واقعہ یمن کے علاقے الصلیف کے جنوب مغرب میں 45 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بحری جہازوں کو کراس کرتے وقت احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہفتہ کو ہی ایک تجارتی جہاز کو بحر ہند میں ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس سے مادی نقصان پہنچا لیکن جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ بحری جہاز اسرائیل سے منسلک تھا۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشن ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جسے بجھا دیا گیا۔ "ایمبری" میری ٹائم سکیورٹی کمپنی نے بتایا کہ بحری جہاز پر لائبیریا کا جھنڈا لہراتا ہے لیکن یہ اسرائیل سے منسلک ہے۔ دونوں ایجنسیوں نے تصدیق کی کہ یہ حملہ ہندوستان کے ساحل سے 200 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ہوا۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے بتایا کہ ڈرون کو ایران سے لانچ کیا گیا۔ بھارت نے اس مقام پر ایک طیارہ اور ایک بحری جہاز بھیجا ہے۔ ابھی تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے اسسٹنٹ کمانڈر برائے رابطہ امور محمد رضا ناغدی نے دھمکی دی ہے کہ جیسے جیسے جرائم جاری ہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نئی مزاحمتی قوتوں کے ابھرنے اور دیگر آبی گزرگاہوں کی بندش کی توقع کرنی چاہیے۔ انہیں بحیرہ روم، جبرالٹر اور دیگر آبی گزرگاہوں کے جلد بند ہونے کی توقع رکھنی چاہیے۔

پینٹاگون کے مطابق حوثیوں نے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے 100 سے زیادہ حملے کیے ہیں جن میں 35 سے زیادہ مختلف ممالک سے منسلک 10 تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی میں خلل پڑنے سے امریکہ نے ایک کثیر القومی بحری فوج کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ اس فوج میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے 20 سے زیادہ ملک شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں