شادی کے پچیس روز بعد قتل ہونے والے مصری نوجوان کے تین قاتل گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں پولیس نے چند روز قبل گولی لگنے سے ہلاک ہونے والے ایک نوبیاہتا نوجوان کے قتل میں ملوث تین مبینہ ملزمان کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

مصر کی القلیوبیہ سکیورٹی سروسز نے نوجوان محمد احمد المعروف ’موزہ‘ کو قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔ مقتول کو "خانکا کا دولہا" کے عرفی نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ پولیس نے تینوں ملزمان کو چار روزہ ریمارڈ پر تحویل میں لے لیا ہے۔

سکیورٹی سروسز کو نوجوان محمد احمد کی ہلاکت کی اطلاع اس وقت موصول ہوئی تھی جب تین افراد نے اس پر گولیاں چلائیں جس سے وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

کہانی کا آغاز

خانکا تھانے سے منسلک عرب العیایدہ گاؤں میں 3 ملزمان کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ ملزمان کی طرف سے یہ حملہ دو لڑکیوں کے درمیان جھگڑے کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے مقتول کو اس وقت گولی ماری جب وہ آٹا تقسیم کررہا تھا۔ اسے گھات لگار کر حملے میں ہلاک کیا گیا۔

مدعا علیہان نے شادی کے 25 دن بعد ایک نوجوان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے بغیر کسی وجہ کے سر میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ مقتول اور قاتلوں کے درمیان ایک لڑکی کے معاملے پر تنازعہ چلا آ رہا تھا۔

یہ پہلا دن تھا کہ نوجوان محمد احمد شادی کے 25 دن کے بعد معمول کے مطابق زندگی گذارنے کے لیے نکلا۔ اس دوران وہ اپنی دلہن کے ساتھ سفر کرنا چاہتا تھا۔ چھٹی ختم ہونے کے فوراً بعد وہ پہلی بار کام پر نکلا تو ملزمان نے اسے 3 گولیاں مار کر قتل کردیا۔

مقتول کے اہل خانہ اور ملزمان کے اہل خانہ کے درمیان جھگڑا لڑکی سے جھگڑے کی وجہ سے پیدا ہوا اور دونوں فریقین نے تنازعے کو حل کرنے کے لیے متاثرہ لڑکی کے چچا سے مدد طلب کی تاہم ان کے درمیان معاملہ حل نہ ہوسکا تو ملزمان نے انتقام کے طور پر احمد کو قتل کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں