’لیٹر بم‘ کی مدد سے فلسطینی حریت پسندوں کا اسرائیلی سفارت کارکےقتل کا انوکھا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ صدی میں لندن میں اسرائیلی سفارت خانے میں کام کرنے والے متعدد اسرائیلی سفارت کاروں کو فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی جانب سے شروع کیے گئے متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔1982ء میں لندن میں اسرائیلی سفیر شلومو آرگوف کو ایک ناکام قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اگرچہ اسرائیلی سفیر بچ گیا مگر وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اس کارروائی کے جواب میں اسرائیل نے لبنان کی خانہ جنگی کے دوران جنوبی لبنان پر حملہ کرکے بدلہ لینے کی کوشش کی۔

شلومو آرگوف سے پہلے 1972ء میں اسرائیل کو ایک انوکھے قتل نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ برطانوی صحافیوں کو حیران کرنے والے عجیب طریقے سے فلسطینی لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے اہلکار امی ششوری کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

برطانوی انتباہات

سنہ 1972 میں میونخ اولمپک گیمز کے دوران اسرائیلی کھیلوں کے وفد کے ارکان کے اغوا اور قتل کے بعد کے عرصے کے دوران فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے یورپ اور امریکا دونوں میں کام کرنے والے اسرائیلی سفارت کاروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ اس صورتحال کے تناظر میں برطانوی انٹیلی جنس نے اسرائیلی حکام کو خبردار کیا کہ فلسطینی حریت پسند اسرائیلی سفارتی مشنوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں خطوط اور پارسل بم استعمال کر سکتے ہیں۔

امی کے لیے ایک یادگاری تختی، جنہیں 1972 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

برطانوی حکام نے اسرائیلی سفارت کاروں سے کہا کہ وہ ملنے والی مشکوک ڈاک سے ہوشیار رہیں کیونکہ پارسل میں کچھ بھی خطرناک چیزبھیجی جا سکتی ہے۔ 1972ء کے یہودی یوم کپور دوران متعدد اسرائیلی سفارت کاروں نے ان انتباہات کو نظر انداز کر دیا۔

ستمبر 1972ء کے وسط میں نیدرلینڈ سے چار چھوٹے لیٹر بم لندن میں اسرائیلی سفارت خانے کے متعدد ملازمین کو بھیجے گئے۔

عامی شاشوری کا قتل

ان میں سے تین پارسل نظر انداز کیے گئے اور کبھی نہیں کھولے گئے۔ چوتھا خط برطانیہ اور اسکینڈینیویا کے لیے اسرائیل کے زرعی مشیر عامی شاشوری کے ہاتھ لگ گیا۔ جب انہوں نے اسے 18 ستمبر 1972ء کو کھولا تو عامی شاشوری کے چہرے پر لیٹر بم پھٹ گیا، جس سے وہ زخمی ہو گئے جس کے بعد اسی واقعے میں ان کی موت ہوگئی۔

اسرائیلی سفیر کومای  کی تصویر
اسرائیلی سفیر کومای کی تصویر

اس کے بعد کے عرصے میں برطانوی حکام نے برطانیہ میں اسرائیلی سفارت کاروں کو اندازے کے مطابق آٹھ لیٹر بم بھیجنے کی نشاندہی کی۔ ان میں سے ایک عامی شاشوری کے ہاتھ میں پھٹا جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔ برطانوی حکام سات لیٹر بموں کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہو ہے جن میں سے تین اسرائیلی حکام تک پہنچ گئے تھے۔

عامی شاشوری کے قتل کے بعد برطانیہ میں اسرائیلی سفیر مائیکل کومے نے بلیک ستمبر تنظیم پر انگلی اٹھائی جس پر صرف دو ہفتے قبل میونخ حملے کا الزام لگایا گیا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ نے واقعے کی مذمت کی اور اپنی سرزمین پر کام کرنے والے سفارتی مشنوں کو نشانہ بنانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں