فلسطین اسرائیل تنازع

بین الاقوامی شپنگ کمپنی میرسک کی بحیرہ احمر میں دوبارہ سرگرمیوں کی تیاری شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ڈنمارک کی قدیمی شپنگ کمپنی میرسک اپنے جہازوں کو بحیرہ احمر میں دوبارہ سے جانے کی اجازت دینے لیے تیاریاں شروع کر چکی ہے۔ یہ امکان امریکہ کے زیر قیادت کثیر قومی بحری آپریشن شروع کیے جانے کے بعد پیدا ہوا ہے۔

امریکہ نے پچھلے ہفتے کے دوران بحیرہ احمر کو یمنی حوثیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے خطے میں کئی اہم رابطے کیے اور مشترکہ حفاظتی مہم لانچ کی، تاکہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور نہر سویز کے راستوں پر حملوں کو روکا جاسکے اور محفوظ جہاز رانی ممکن بنائی جا سکے۔

واضح رہے اس راستے سے یورپ اور ایشیا کے درمیان تیل اور گیس کی نقل و حمل سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ علاوہ ازیں بھی تجارتی سامان کی نقل و حمل اس راستے سے ہوتی ہے۔ میرسک نے کہا ہے ' اس نے اپنے جہازوں کو بحری سفر شروع کرنے کی دوبارہ سے اجازت دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔'

میرسک کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ' ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ بحری سلامتی کے لیے قائم ' او پی جی ' کے اقدامات کے بعد تجارت کے لیے بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں پہلے جہازوں کے شیڈول کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے ساتھ اکتوبر سے غزہ میں جاری بمباری کے خلاف سمندروں میں اسرائیلی حمای اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا اور بعد ازاں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ حوثیوں کا اعلان یہ سامنے آیا تھا کہ جب تک اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں دور نہیں کرتا اسرائیل کی طرف بھی کوئی جہاز نہیں جا سکے گا۔

اب تک کئی جہاز حوثیوں کے حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔ تب سے میرسک سمیت بڑی کمپنیاں اپنے جہاز بحیرہ احمر سے بچتے ہوئے افریقہ اور ' کیپ آف گڈ ہوپ ' سے اپنے جہاز گزار رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے سفری اخراجات اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں