بحیرہ احمر میں تیل بردار جہاز پر حملہ، مودی کا ولی عہد کو فون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ فونک رابطہ بحیرہ احمر میں تیل بردار جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس دوران باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ مشرق وسطی کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

نریندر مودی نے اس فون کال کا ذکر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کرتے ہوئے لکھا ہے 'ہم نے باہم مغربی ایشیا کی صورت حال پر بات چیت کی اور دہشت گردی اور تشدد کے علاوہ انسانی جانوں کے نقصان پر تشویش کا اظہار کیا۔ نیز علاقے میں پائی جانے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

مودی نے ' ایکس ' پر اپنے پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا ہے 'ولی عہد سے بات چیت کے دوران ہم نے اپنے فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں دیرینہ موقف کا اعادہ کیا اور غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔'

بھارتی وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان فون کال پر ہونے والا یہ تبادلہ خیال بھارت کے مغربی ساحل کے پاس سامان بردار جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ہوا یے۔ سامان بردار جہاز پر اس ڈرون حملے کے بعد بھارت نے بحیرہ عرب میں تین بحری جنگی جہاز بھیج دیے ہیں۔ یہ بات بھارتی حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر بتائی گئی ہے۔

بھارت کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاز پر حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس سے پہلے ہی امریکہ نے اس ڈرون حملے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ہے۔ امریکہ ہندوستان کے نزدیک بحری جہاز پر ہونے والے اس ڈرون حملے کے سلسلے میں اپنے اتحادیوں سے بھی بات چیت شروع کر چکا ہے۔ تاکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں پر امکانی حملے کے لیے غور کیا جا سکے۔ جن کی بحیرہ احمر میں کارروائیاں کافی بڑھی ہوئی ہیں۔

بھارت کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کے روز جہاز پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے اس حملے میں ملوث لوگوں کو جلد ہی انصاف کے کٹہرے میں آنا ہوگا۔ راجناتھ نے مزید کہا ہم اس سلسلے میں اپنے دوست ملکوں کے ساتھ مل ہر سمندری راستوں کو محفوظ بنائیں گے۔ کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ سمندروں کے راستے تجارت ہمارے علاقے میں بڑھے اور ترقی کو چھوئے۔

واضح رہے بھارت دنیا میں تیسرا بڑا آئل کی درآمد کرنے والا ملک ہے۔ برآمد کردہ تیل کی بڑی مقدار سعودی عرب اور عراق سے آتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں