سعودی ولی عہد کا مجلس شوریٰ کے اجلاس سے سالانہ خطاب

غزہ پر جارحیت روکنے کے لیے عرب اور اسلامی پلیٹ فارمز کو متحرک کیا: شہزادہ محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے مجلس شوری کے آٹھویں سیشن کے چوتھے سال کے اجلاس سے سالانہ خطاب کیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے اپنے خطاب میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے بتایا کہ "مملکت نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے عرب اور اسلامی پلیٹ فارمز کا استعمال کیا۔" انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران متعدد تقریبات میں 100 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔

Advertisement

تاریخی ترقی

شہزادہ محمد بن سلمان نے رواں سال کے دوران مملکت میں ترقی کے شعبوں کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ترقی کی جانب گامزن ہے۔"

سیاحت کے شعبے میں تاریخی شرح نمو اور اس حقیقت کا ذکر کیا کہ سعودی معیشت جی 20 ممالک میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’ ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کے انتخاب نے عالمی سطح پر اس نمایاں پوزیشن کی تصدیق کی ہے۔

ولی عہد نے مزید کہا مملکت نے مختلف میدانوں میں مثالی ترقی کی ہے۔ سعودی معیشت کی تیز رفتار ترقی کا تناسب مقامی سطح پر 8.7 فیصد تھا جبکہ تیل کے ماسوا ترقی کے میدان میں بھی مقامی سطح پر معیشت میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا‘۔

’مملکت نے سیاحتی شعبے نے بھی تاریخی کامیابی حاصل کی۔ 2023 کی ابتدا میں اس شعبے میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ اپنے اقتصادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا ’حج وعمرہ سیکٹر میں عازمین کی فلاح اور انہیں مختلف نوعیت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مملکت نے گزشتہ برس 18 لاکھ عازمین اور ایک کروڑ سے زائد عمرہ زائرین کو خوش آمدید کہا جو ضیوف الرحمان پروگرام برائے 2030 کے اہداف کی کامیابی کی عکاس ہے‘۔

خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا’ مملکت ہمیشہ سے اپنے واضح موقف پر قائم ہے، ہم بہتر ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری اور تمام ممالک کی قومی خودمختاری کے حامی اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے قائل ہیں‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں