یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے پاکستان جانے والے مال بردار بحری جہاز پر میزائل حملہ

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بحری جہاز پر میزائل حملے کیے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب ڈرون حملے بھی کیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے منگل کو بحیرہ احمر میں مال بردار بحری جہاز پر میزائل حملے اور اسرائیل پر ڈرون سے حملہ کرنے کی کوشش کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی حوثیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بحری جہاز پر میزائل حملے کیے جبکہ اسرائیل کی جانب ڈرون حملے بھی کیے گئے۔

اپنے بیان میں یمنی حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ بحیرہ احمر میں ٹارگٹ کیا گیا بحری جہاز امریکا کا تھا جس کی شناخت ایم ایس سی یونائیٹڈ کے طور پر کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی جنوبی اسرائیل میں متعدد فوجی اہداف کو بھی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بحری جہاز سعودی عرب کی کنگ عبداللہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر کراچی جا رہا تھا۔

شپنگ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ یونائیٹڈ 8 جہاز پر میزائل حملے سے عملے میں شامل کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔

یمنی حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے سات اکتوبر کے بعد سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں، اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی میں جارحیت کو روکنے کے لیے زور دیا جا سکے۔

یمنی چوثیوں کے ترجمان نے بتایا کہ گروپ کی جانب سے بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب عملے نے انتباہی پیغامات پر ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایک فوجی آپریشن کیا گیا ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ کس حد تک کامیاب ہوا۔

اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس کے ائیر کرافٹ نے ایک ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری سے 20 ہزار 977 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 54 ہزار 536 افراد زخمی ہوئے ہیں، شہدا اور زخمیوں میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں