سات اکتوبر:اسرائیل پرحملے سلیمانی کےقتل کاانتقام تھے،ایرانی دعوے کی حماس نےتردیدکردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پاسداران انقلاب کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے راکٹ حملے مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے انتقام کے لیے کیے گئے تھے۔ تاہم فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے ایرانی پاسداران کے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی ہے۔

پاسداران کے ترجمان نے کہا ' طوفان الاقصیٰ ایران کے انتقامی حملوں میں سے ایک تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے 'اثنا' نے پاسداران کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے۔ ' یقیناً اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ یہ کارروائیاں مختلف جگہوں اور مختلف اوقات پر ہوتی رہیں گی۔

ایرانی ترجمان کا یہ دعویٰ جیسے ہی سامنے آیا حماس نے تیزی سے اس کی تردید کر دی۔ حماس نے کہا سات اکتوبر کے سارے اقدامات فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف رد عمل کے طور پر تھے اور اسرائیل کے فلسطینی عوام اور ہمارے مقدسات کے خلاف حملوں کے جواب میں تھے۔

واضح رہے ایرانی پاسداران انقلاب کور کے ترجمان کا یہ بیان جنرل قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی سے پہلے سامنے آیا ہے۔ جنرل سلیمانی کو امریکہ نے بمباری کر کے دوران جنوری 2020 میں عراق میں قتل کیا تھا۔

جنرل سلیمانی ایران کی قدس فورس کے سربراہ تھے اور ایران سے باہر ایران کی فوجی کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔ انہیں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد مضبوط ترین لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ایران نے کئی بار جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

پاسداران انقلاب ایران کور کے ترجمان نے مقتول جنرل سلیمانی کے قریبی ساتھی اور بریگیڈئیر جنرل رضی موسوی کی دمشق میں ہلاکت کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ اس کمانڈر کے قتل کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔

ان سے پوچھا گیا تھا کہ اس تازہ قتل کا بدلہ خود بدلہ لے گا یا اپنے حمایت یافتہ گروپوں کے ذریعے انتقام لے گا۔؟ ترجمان نے کہا ' دونوں طرح سے یقیناً مل کر یہ انتقام لیا جائے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں