'ہر دو گھنٹے بعد موت': بچے کی پیدائش کے لیے افغان خواتین کی زندگیاں خطرے سے دوچار

افغانستان میں زچگی کے دوران ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون کی موت واقع ہو جاتی ہے: ترجمان اقوامِ متحدہ اسٹیفن ڈوجارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

زبیدہ نے بچے کی پیدائش کے لیے مشرقی افغانستان میں خوست کے دیہی مضافات سے زچگی کے ایک ہسپتال کا سفر کیا جو پیچیدہ معاملات میں مہارت رکھتا ہے۔ افغانستان کی بیشتر حاملہ خواتین کی بدنصیبی کے خوف سے جو عام ہے – جس میں یا تو وہ خود یا ان کا بچہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے زیرانتظام چلنے والے ہسپتال کی نامعلوم ہلچل میں گھری ہوئی وہ ایک دن پہلے زچگی سے تھکی ماندی حواس باختہ لیٹی تھی لیکن پرسکون تھی۔

اس کا بدستور کمزور نومولود بچہ لوہے کے اکھڑے ہوئے پینٹ والے جھولے میں قریب ہی سو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نظرِبد سے بچانے کے لیے سرمے کی لکیریں تھیں۔

اپنی عمر سے ناواقف اس خاتون نے کہا، "اگر میں گھر پر پیدائش دیتی تو بچے کے اور میرے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی تھیں۔"

ہسپتال پہنچنے والی تمام خواتین اتنی خوش قسمت نہیں ہوتیں۔

صوبہ خوست کے دارالحکومت خوست میں ایم ایس ایف میں دایہ گیری کی سربراہ تھیریس تویسابینگیرے نے کہا، "بعض اوقات ہمیں ایسی مریض ملتی ہیں جو اپنی جان بچانے کے لیے بہت دیر سے آتی ہیں" گھر پر ڈیلیوری کے بعد۔

یہ طبی سہولت ایک سال میں 20,000 بچوں کو پیدائش دیتی ہے جن میں سے تقریباً نصف صوبے میں پیدا ہوتے ہیں اور یہ صرف زیادہ خطرناک اور پیچیدہ حمل کے کیسز کو ڈیل کرتی ہے جن میں کئی ایسی مائیں شامل ہیں جن کا کوئی چیک اپ نہیں ہوا ہوتا۔

"جانیں بچانا ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔" تویسابینگیرے نے کہا۔

وہ اور اس کلینک میں تقریباً 100 دائیاں افغانستان میں زچگی کی شرحِ اموات کو کم کرنے کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں جہاں کئی بچے پیدا کرنا باعثِ فخر ہے لیکن ہر پیدائش میں بہت زیادہ خطرات ہوتے ہیں — جس میں خواتین کے خلاف مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا، افغانستان زچگی کے دوران اموات کے حوالے سے دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں "ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون کی موت" واقع ہوتی ہے۔

افغان وزارتِ صحت نے اس کہانی پر تبصرہ کرنے کی بارہا درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 2017 سے افغانستان میں ہر 100,000 قابلِ عمل پیدائش کے لیے 638 خواتین کی موت واقع ہوتی ہے جبکہ امریکہ میں یہ تعداد 19 ہے۔

مزید یہ کہ یہ اعداد و شمار دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان بڑے تفاوت کو ظاہر نہیں کرتا۔

غیر منافع بخش نارویجن افغانستان کمیٹی (این اے سی) کے کنٹری ڈائریکٹر ترجے واٹرڈل نے کہا کہ انہوں نے افغانستان کے دور دراز علاقوں میں زچگی کے فی 100,000 کیسز میں 5,000 اموات دیکھیں۔

انہوں نے کہا، "مرد عورتوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور عورتیں ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں پہاڑ پر مر جاتی ہیں۔"

اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی اور ان کی شورش کے خاتمے سے پہلے خواتین کو مدد تک پہنچنے کے لیے بعض اوقات خطرات کے خلاف بہادری کا مظاہرہ کرنا پڑتا تھا لیکن اب نئے چیلنجز ہیں – جن میں ماہر افراد کا ملک چھوڑ جانا بھی شامل ہے۔

واٹرڈل نے کہا، "بہت سے ماہرینِ امراضِ نسواں ملک چھوڑ چکے ہیں۔"

انہوں نے کہا، مزید برآں طالبان حکام خواتین سے ملنے کے لیے جانے والی موبائل میڈیکل ٹیموں سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ "وہ ان کے دیئے ہوئے صحت کے پیغامات کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔"

طالبان کی حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی سے نکال دیا گیا اور ان کی تعلیم تک رسائی محدود کر دی گئی جس سے ایک ایسے ملک میں خواتین کے طبی شعبے کے مستقبل کو خطرہ ہے جہاں بہت سے خاندان خواتین کو مرد ڈاکٹروں کے پاس بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔

افغانستان میں ایم ایس ایف کے ڈائریکٹر فلیپ ریبیرو نے کہا، "ایک عورت کے لیے قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش کی طبی نگہداشت تک رسائی (ہمیشہ) انتہائی پیچیدہ تھی۔ آج یہ اور بھی پیچیدہ ہے۔"

یہ حکام کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے ساتھ ساتھ صحت کی نگہداشت کے نظام کی ناکامیوں - بشمول غیر ملکی عطیہ دہندگان کی مدد - کی وجہ سے ہے۔

ریبیرو نے کہا، "جو تھوڑا بہت باقی تھا وہ اب پہلے سے بھی زیادہ دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔""

کابل میں غیر سرکاری تنظیم ٹیری ڈیس ہومز کے ہیلتھ کوآرڈینیٹر نور خانم احمد زئی نے کہا، ملک کے معاشی بحران کے دوران خاندانوں پر مالی دباؤ خطرات کو اور بڑھاتا ہے۔

ایک سرکاری ہسپتال میں جہاں دائیاں زیادہ کام کرتی ہیں اور انہیں کم تنخواہ ملتی ہے، خواتین کو اپنی ادویات خود لانی پڑتی ہیں۔

ایک ڈیلیوری کی قیمت تقریباً 2,000 افغانی ($29) ہے - جو کئی خاندانوں کے لیے ایک اہم رقم ہے۔

احمد زئی نے کہا، خطرات کے باوجود "خواتین جو پبلک سیکٹر میں جاتی تھیں اب گھر پر زچگی کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔"

ایک اندازے کے مطابق 40 فیصد افغان خواتین گھر میں پیدائش دیتی ہیں لیکن دور دراز کے علاقوں میں یہ تعداد 80 فیصد تک جا پہنچتی ہے - اکثر اپنی ساس یا مقامی خاتون سردار کی مدد سے لیکن بعض اوقات تنہا بھی۔

تین جڑواں بچوں کے ساتھ حاملہ اسلام بی بی درد کی حالت میں اور خالی ہاتھ خوست میں ایم ایس ایف کی سہولت میں گئی۔

حالیہ مہینوں میں ملک بدری کے خوف سے بھاگ کر پاکستان آ جانے والے لاکھوں افغانوں میں سے ایک 38 سالہ اسلام بی بی نے کہا، "میں بیمار تھی، میرے شوہر کے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے کہا گیا، 'اس اسپتال چلی جاؤ، وہ سب کچھ مفت کرتے ہیں'۔"

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والی ایم ایس ایف کی ماہرِ امراضِ نسواں تانیہ الیکوٹے نے کہا، اسلام بی بی جیسی متعدد پیدائشیں عام ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "یہاں کئی بچے پیدا کرنے کی قدر کی جاتی ہے اور کئی خواتین اپنی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے علاج کرواتی ہیں۔ ہمارے یہاں اکثر جڑواں بچے ہوتے ہیں۔"

افغانستان میں اوسطاً ہر عورت کے چھ بچے ہوتے ہیں لیکن ایک سے زیادہ حمل، بار بار سیزرین سیکشن یا اسقاطِ حمل سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امید کی کچھ کرنیں ہیں۔

ہمسایہ صوبہ پکتیا میں حال ہی میں چھوٹے صوبائی دارالحکومت گردیز میں این اے سی کی طرف سے کھولے گئے اپنی نوعیت کے پہلے زچہ بچہ مرکز کی بدولت خواتین کو اب کم خطرات لاحق ہیں - یہ کلینک جو خواتین کے لیے خواتین چلاتی ہیں۔

طالبان کے مقرر کردہ صوبائی ہیلتھ ڈائریکٹر خیر محمد منصور نے تمام مرد سامعین کو بتایا۔ "اس قسم کا کلینک زیادہ تر صوبوں میں موجود نہیں ہے۔"

"ہم نے ان کے لیے ایک نظام بنایا ہے جس میں شرعی قوانین اور تمام طبی اصولوں کی پابندی کی جائے گی۔"

مینیجر نسرین اوریاخیل نے کہا، "این اے سی کی اس سہولت کا مقصد "ہماری کئی بہنوں کی مدد کرنا ہے جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔" آئندہ مہینوں میں چار دیگر صوبوں میں اسی طرح کے کلینک کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ہیڈ دائی مومنہ کوہستانی نے کہا کہ یہ چھوٹا کلینک ایک دن میں 10 بچوں کی پیدائش کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

اس کی دیواروں پر تازہ پینٹ ہوا تھا اور حاملہ خواتین کے لیے وٹامنز اور آئرن کو فروغ دینے والے پوسٹرز لگے ہوئے تھے۔

ان کے لیے دنیا میں نئی زندگی لانے کے لیے مائیں تبھی زندہ رہ سکتی ہیں جب سہولیات ان کے گھر کے قریب ہوں۔

"میری ماں بچے کی پیدائش کے دوران فوت ہو گئیں۔" انہوں نے آہستگی سے کہا جبکہ ان کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں