اسرائیلی جارحیت تیز ہونے سے غزہ کو امداد فراہم کرنا مشکل ہو گیا: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پٹی میں اسرائیلی بمباری اور جھڑپوں کی وجہ سے پٹی کو امداد فراہم کرنے کا کام مشکل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خبررساں دفتر نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے امداد (OCHA) کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی کے بیشتر علاقوں بالخصوص وسطی علاقے میں 23 سے 26 دسمبر تک فضائی، زمینی اور سمندری راستے سے ہولناک بمباری کی ہے۔

امدادی رابطہ دفتر نے مزید کہا کہ بمباری میں 24 اور 25 دسمبر کو تین پناہ گزین کیمپوں البریج، النصیرات اور المغازی پر 50 سے زیادہ حملے کئے گئے اور درجنوں فلسطینیوں کو مار دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی ان کارروائیوں نے امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ ان کیمپوں کو جوڑنے والی سڑکیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔

ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح اب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں مکمل تباہ ہونے لگا ہے۔

فرانس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ تک انسانی امداد کی مکمل اور بلا روک ٹوک ترسیل میں سہولت فراہم کرے۔ اس نے غزہ میں فوری جنگ بندی کے مطالبے کو دہرایا۔

یاد رہے غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 21110 ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں