فلسطین اسرائیل تنازع

افغانستان، لیبیا عراق کی طرح غزہ کے لیے بھی امریکی منصوبہ ناکام ہوگا: روسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا کو افراتفری میں ڈالنے کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی سازشیں ہیں مگر مغرب کی بالادستی کم ہو رہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کی طرف سے شائع ہونے والے سال کے آخر میں ایک انٹرویو میں لاوروف نے خبردار کیا کہ دنیا میں کوئی بھی 2024 میں مغربی سازشوں سے بچ نکلنے کا یقین نہیں کر سکتا۔

لاوروف نے نشاندہی کی کہ امریکا غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے اپنے طریقے مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن کا بین الاقوامی قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکا اس سے قبل کئی ممالک میں اپنے منصوبے مسلط کرنے کی ناکام کوشش کرچکا ہے جن میں افغانستان، عراق، لیبیا اور تباہ ہونے والے دیگر ممالک اور خطے شامل ہیں۔ واشنگٹن کی مہم جوئی کی وجہ سے یہ ممالک تباہ ہوگئے مگر امریکی وژن کامیاب نہیں ہوسکا۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "ہم بنیادی طور پر خود فلسطینیوں کی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقائی شراکت داروں کی رائے پر توجہ مرکوز کریں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حق ہے، جس میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی سمیت تمام دیگر علاقے شامل ہیں۔

لاوروف نے وضاحت کی کہ روس کا مؤقف "سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور عرب امن اقدام پر مبنی ہے اور مستقل امن کے قیام کا فارمولہ معروف ہے۔ ہمارا موقف 1967ء کی سرحدوں کے اندر مشرقی یروشلم کےدارالحکومت پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا قیام کے مطالبے پر مبنی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ "یہ آسان نہیں ہے، مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ اس کا متبادل خونریزی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی کشیدگی نئی نہیں بلکہ 75 سال سے جاری ہے۔

لاوروف نے کہا کہ "دنیا میں طوفان بدستور جاری ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کے حکمران حلقے اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور بحرانوں کو ہوا دے رہے ہیں، تاکہ اپنے مسائل کو دوسرے لوگوں کی قیمت پر حل کرسکیں"۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "یہ کہا جا سکتا ہے کہ جن حالات میں مغرب اس تسلط سے چمٹا ہوا ہے جو اس کے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے،

ماسکو نہ صرف یوکرین کی جنگ کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہراتا ہے بلکہ اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا آغاز طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں