اسرائیل نے قبرص کے راستے غزہ تک امداد پہنچانے کی ابتدائی منظوری دیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے لیے قبرص کو سمندری گزرگاہ بنانے کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔

اس تجویز پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بات چیت کی جا رہی تھی۔ اس کا مقصد غزہ کی پٹی میں بڑی مقدار میں امداد پہنچانا ہے۔ غزہ میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد پانی، خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی کی دائمی قلت کا شکار ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے 83 دنوں سے جاری بربریت میں 21320 فلسطینیوں کو شہید اور 55 ہزار سے زیادہ کو زخمی کردیا ہے۔ غزہ کی پٹی کی تقریبا ساری آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔ عالمی اداروں نے غزہ کی پٹی میں قحط کے خطرے سے خبردار کر رکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں غزہ کے لیے انسانی امداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور ھیات نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اصولی طور پر ایک ایسے نظام سے اتفاق کیا ہے جو بین الاقوامی امداد کو براہ راست غزہ کی پٹی تک پہنچانے سے قبل قبرص میں اسرائیل کو اس سامان کی جانچ کی اجازت دے گا۔ اس طریقہ کار کی ابتدائی منظوری دی گئی ہے لیکن ابھی بھی کچھ لاجسٹک مسائل حل ہونا باقی ہیں۔

گذشتہ ہفتے اپنے دورہ قبرص کے دوران اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے غزہ کے لیے سمندری راستے سے بھیجی جانے والی انسانی امداد کے لیے عملی اور تیز رفتار راستہ تلاش کرنے کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں