ایران نے اکتوبر حملے کو قاسم سلیمانی سے جوڑنے کی غلطی درست کرلی: حماس

حماس، اسلامی جہاد سمیت 5 فلسطینی گروپوں نے غزہ کے مستقبل کے لیے مجوزہ تمام حل مسترد کردئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس نے کہا کہ ایران نے 7 اکتوبر کے حملے کو پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے انتقام سے جوڑنے کی غلطی کو درست کرلیا ہے۔ تحریک نے اسرائیل پر بین الاقوامی تعاون کے ساتھ فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس سمیت پانچ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کے مستقبل کے لیے تجویز کردہ تمام منظرناموں اور حل کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بیروت میں پانچ دھڑوں حماس، تحریک اسلامی جہاد، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین، ڈیموکریٹک فرنٹ اور پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے جنرل کمانڈ کی موجودگی میں ایک اجلاس منعقد کیا۔

جمعرات کو حماس نے کہا کہ اس نے دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ ایک "قومی حل" پر اتفاق کیا ہے جس کی بنیاد ایک اتحادی حکومت کی تشکیل ہے۔

حماس نے کہا کہ اس نے اور دیگر دھڑوں یعنی اسلامی جہاد موومنٹ، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین، اور ڈیموکریٹک فرنٹ نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے کسی بھی تبادلے سے قبل غزہ میں جنگ بند کرنے پر زور دیا۔ حماس نے کہا کہ فلسطینی گروپوں نے حتمی جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی تمام کارروائیوں کی بندش اور قابض فوج کے انخلا کی شرط پر قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت ہوگی۔ حماس نے مزید کہا کہ فلسطینی دھڑوں نے غزہ میں جنگ کے بعد کے اسرائیلی اور مغربی منظرناموں کو مسترد کردیا ہے۔

حماس نے کہا فلسطینی گروپوں نے متعدد تجاویز پیش کرنے پر اتفاق کیا جس میں ایک جامع اور قومی اجلاس کی کال شامل ہے جس میں تمام فریقین بغیر کسی استثناء کے شامل ہوں۔

دھڑوں نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات میں مکمل متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق عام انتخابات کے ذریعے فلسطینی سیاسی نظام کو جمہوری بنیادوں پر استوار اور مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ نظام قومی اتحاد کی بنیادوں اور قومی شراکت داری کے اصولوں پر اندرونی تعلقات کو دوبارہ استوار کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں