ارجنٹائنی صدر کے"اسلامی دہشت گردی" کے بارے میں بیانات پر مسلمان برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ارجنٹائن کے نو منتخب یہود نواز صدر کے نسل پرستانہ بیانات پہلے بھی زیر بحث رہے ہیں۔ ان کے حالیہ مسلمان مخالف بیانات نے مسلمان حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا۔

ارجنٹائن ریپبلک کے اسلامی مرکز نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے نومنتخب صدرکے "پوری اسلامی برادری کے خلاف جارحانہ بیانات کی شدید مذمت کی"۔

نئے صدر جیویر میلے نے کل جمعہ کو دارالحکومت بیونس آئرس میں "یہودی اولمپک کھیلوں" کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔

اپنی تقریر میں جیویرمیلے جس نے سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہودی مذہب کا پرزور حامی سمجھا جاتا ہے، نے "اسرائیلی ریاست اور اسرائیل کے ساتھ اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہودی لوگ اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن اور آزادی کی خاطر ہمارا ساتھ دیں‘‘۔

مرکز نے فوری طور پرایک بیان جاری کیا جو ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور متعدد مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوا ہے۔ یہ بیان ’La Nacion‘ کی ویب سائٹ بھی شائع ہوا ہے۔

اس نے کہا کہ "یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قوم کا صدراپنی بات کو بھول جاتا ہے۔ اسے پوری ارجنٹائنی قوم کی طرف سے بات کرنی چاہیے، جس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ ہمارے وطن میں لاکھوں ارجنٹائنی مسلمان رہتے ہیں۔ صدر کی فرقہ وارانہ اور نسل پرستانہ بیان بازی سے ہم خفا ہیں"۔

اسلامک سینٹر نے اپنے بیان میں 16 فروری 2017ء کو میں عوامی تحریکوں کے اجلاس کے موقع پر پوپ فرانسس کے اس پیغام کو بھی دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "کوئی عیسائی دہشت گردی نہیں، کوئی یہودی دہشت گردی نہیں اور کوئی اسلامی دہشت گردی نہیں ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں‘‘۔ پوپ فرانسس نے 25 مئی 2018 کو ویٹیکن میں کہا تھا ’’اسلام اور دہشت گردی کو جوڑنا نا مناسب ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں