اسرائیلی فوج نے غزہ سے لاکھوں ڈالر لوٹ لئے ہیں: ہیومن رائٹس آبزرویٹری

اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر املاک کی تباہی کی، ذاتی سامان کی چوری کے لیے من مانی گرفتاریاں کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورو- میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں اپنے فوجیوں کو گھروں پر چھاپوں کے دوران فلسطینی شہریوں کے خلاف "غیر اخلاقی" کے طور پر بیان کیے گئے عمل کو انجام دینے کے لیے اتارا جس میں املاک کی چوری اور لوٹ مار شامل ہے۔
آبزرویٹری نے ایک بیان میں "عرب دنیا" کی خبر ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں کے فلسطینیوں کے پیسوں اور سامان کی منظم چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے جن میں سونا، رقوم، موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز شامل ہیں۔
آبزرویٹری نے وضاحت کی کہ جمع کی گئی شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چھاپے من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور میدان میں قتل کی کارروائیوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے فلسطینی آبادی کے خلاف اجتماعی انتقام لیتے ہوئے صہیونی فوجیوں نے جان بوجھ کر املاک کی توڑ پھوڑ،کی ، ذاتی سامان کی چوری کیا اور لوٹ مار کے بعد گھروں کو بھی جلا ڈالا تھا۔
آبزرویٹری کے مطباق کے دستاویز شہادتوں کی بنیاد پر ابتدائی تخمینے میبں فلسطینی شہریوں کے ذاتی سامان کی چوری اور اسرائیلی فوج کی جانب سے قیمتی املاک کی وسیع پیمانے پر لوٹ مار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لوٹ مار سے حاصل ہونے والی رقم دسیوں ملین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
آبزرویٹری نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو کلپس شائع کیں جس میں غزہ کی پٹی میں شہریوں کے گھروں کی جان بوجھ کر تخریب کاری کو فلمایا گیا تھا۔ اسی طرح دیواروں پر نسل پرست یا یہودی نعرے درج کیے گئے تھے۔ اسی طرح اسرائیلی فوجی رقم اور قیمتی املاک کو چھیننے کے بارے میں شیخی بگھار رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں