اسرائیل کو ہنگامی اسلحہ فراہمی کے لیے کانگریس پھر نظر انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یہ دوسری بار ہوا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے لیے کانگریس سے منظوری لیے بغیر اپنے ہنگامی حالات کی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کانگریس سے بالا بالا منظوری دے دی ہے۔

جو بائیڈن انتظامیہ نے یہ فیصلہ غزہ میں اسرائیلی جنگی ضروریات میں توقع سے زیادہ اضافے کے پیش نظر کیا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی جنگ کا یہ تسلسل اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں غیر معمولی انداز میں ہوتے چلے جانے والے اضافے پر تنقید کی جارہی ہے۔

جمعہ کے روز امریکی دفتر خارجہ نے کہا ' وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کانگریس کو بتا دیا تھا کہ اسرائیلی جنگی ضروریات کے لیے ہنگامی طور پر اسلحہ کی ترسیل ضروری ہے۔ اس سلسلے میں 147.5 ملین ڈالر کی مالیت کے جنگی آلات کی فروخت مقصود ہے۔ گولہ بارود کے علاوہ دوسرا سامان بھی اس میں شامل ہو گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی کی اس ہنگامی جنگی ضوروتوں کے پیش نظر وزیر خارجہ نے کانگریس کو نوٹ بھجوا دیا تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے ہنگامی اختیار کے تحت اسرائیلی کی ہنگامی ضرورت کا اندازہ کرنے کے بعد فوری طور پر منظوری دے دی۔'

دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ' امریکہ اسرائیل کے تحفظ اور دفاع کے معاملات کے لیے غیر معمولی طور پر کمٹڈ ہے۔ اسرائیلی دفاع خود امریکہ کے اپنے وسیع تر مفاد میں ہے۔ اس لیے اسرائیل کو اس قابل بنانا کہ وہ اپنا دفاع کر سکے بہت ضروری تھا۔'

واضح رہے ہنگامی بنیادوں پر امریکہ کی طرف سے کسی ملک کو امداد دینے ایک مطلب یہ ہے کہ اس فیصلے سے پہلے کانگریس سے پیشگی منظور نہیں لی جائے گی۔

اسی طرح کا ایک فیصلہ بلنکن نے 9 دسمبر کو بھی کیا تھا جس میں اسرائیل کو 106 ملین ڈالر کی مالیت کے ٹینکوں کے چودہ ہزار گولے ہنگامی طور پر بھیجنے کی منظوری دی گئی تھی۔

ایسا ہی ایک اقدام صدر جو بائیڈن نے یوکرین کی مدد کے لیے کیا تھا۔ جس میں تقریبا 10 بلین ڈالر کا امدادی پیکج یوکرین، اسرائیل کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اسرائیل جس پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ موجود ہے وہ اس اسلحے کو غزہ میں استعمال کرے گا یا پھر لبنان اور شام میں اپنی جنگی ضرورتیں پوی کرے گا جو اسے اس قدر ہنگامی بنیادوں پر بھیجا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں