روس میں نیم برہنہ پارٹی کے انعقاد پر عوامی حلقوں میں شدید غم وغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کے دارالحکومت ماسکو کے ایک کلب میں روسی شوبز اور دیگر حلقوں کی مشہور شخصیات کی طرف سے منعقد کی گئی ایک متنازع پارٹی نے روس میں غم و غصے کی ایک شدید لہر کو جنم دیا ہے۔

یہ پارٹی ایک ایسےوقت میں منعقد کی گئی ہے جب دوسری طرف یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ملک میں قدامت پسندی کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں نیم برہنہ لوگوں کی پارتی پر تنقید بھی زیادہ ہو رہی ہے۔

یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب روسی تفریحی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد چند روز قبل سوشل میڈیا پر انڈرویئر یا بولڈ ملبوسات میں سامنے آئے، جس کی وجہ سے ایک مشہور ریپر کی گرفتاری، بائیکاٹ کا مطالبہ اور فوج داری تحقیقات کا آغاز ہوا۔

سخت ردعمل کے پیش نظر یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے بڑھتی مخالفت پر روسی معاشرے میں ایونٹ آرگنائزر اناستاسیا ایولیوا نے ایک ویڈیو معافی نامہ پوسٹ کیا جس میں وہ آنسو بہاتی نظر آئیں۔ اس نے کہا کہ "میں آپ لوگوں سے ایک دوسرا موقع پوچھنا چاہوں گی۔ اگر جواب نفی میں ہے تو میں سرعام موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہوں"۔

20 سے زیادہ لوگوں نے اس کے خلاف کلاس ایکشن کا مقدمہ دائر کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں حملے کی حمایت کرنے والی تنظیم کو 1 ارب روبل (11.11 ملین ڈالر) ادا کرے۔

اس کی معذرت نے ٹی وی پیش کار ولادیمیر سولویووف کا غصہ ٹھنڈا نہیں کیا جو کریملن کے حامی ایک انفلوئنسر ہیں۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر جواب دیا کہ "کیا آپ دوسرا موقع چاہتے ہیں؟ ہمارے آدمی (یوکرین میں) ہیٹر اور ڈرون لے آئیں"۔

اس نے پہلے موٹابور پاپولر کلب میں اس پارٹی کے مہمانوں کو "غلط" قرار دیا تھا۔ انہوں نے چیخ کر کہا کہ"آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ لوگ آپ سے کتنی نفرت کرتے ہیں"۔

خبر رساں ایجنسی TASS کے مطابق ریپر فاسیو جو اپنی عریانیت کو چھپانے کے لیے صرف جرابوں کے ساتھ پارٹی میں آیا تھا - کو "ہم جنس پرست پروپیگنڈہ" اور "غنڈہ گردی" کے الزام میں 15 دن قید کی سزا سنائی گئی۔

ثقافتی ایلیٹ عام طور پر روس کے قدامت پسند رحجان سے دور رہی ہے، جو یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔

پاپ اسٹار فلپ کرکوروف نے بھی متنازع لباس میں سامنے آنے کے بعد معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکل اور بہادری کے وقت میں میری سطح کا ایک فنکار اتنا غیر ذمہ دار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے"۔

ایک صحافی اور ولادیمیر پوتین کے سرپرست کی بیٹی کیسنیا سوبچک جو خاردار تاروں کے نمونوں والے خاکستری لباس میں نظر آئیں نے سوشل میڈیا پر اعتراف کیا کہ "پوری دنیا کے سامنے پارٹی کی تصاویر دکھانا نامناسب تھا"۔

گلوکارہ دیما بلان نے کہا کہ وہ "عوام کی بے چینی کو سمجھتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو اگلے مورچوں پر ہمارا دفاع کرتے ہیں"۔

کریملن نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ زندگی ہمیں دردناک سبق سکھاتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا، "ان لوگوں کو بھلائی کے لیے مسئلے کی گہرائی کو سمجھنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں