امریکی جنگی بحری جہاز نے یمن سے داغا گیا بحری جہاز شکن میزائل مار گرایا

بحیرۂ احمر میں حوثیوں کا بحری جہازوں کو نشانہ بنانا فلسطینیوں کی حمایت میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی فوج نے بتایا کہ ایک امریکی بحری جنگی جہاز نے ہفتے کے روز یمن سے داغے گئے دو بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل مار گرائے جب اس نے ایک کنٹینر جہاز کی مدد کی کال کا جواب دیا جس پر ایک الگ حملہ ہوا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ میزائل ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے سے داغے گئے اور اسے 19 نومبر سے حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی جہاز رانی پر 23 واں غیر قانونی حملہ قرار دیا۔

حوثیوں نے بار بار بحیرۂ احمر کے اہم راستے پر جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہیں جہاں اسرائیل فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس سے برسرِپیکار ہے۔

سینٹ کام نے کہا کہ یو ایس ایس گریولی اور یو ایس ایس لابون دونوں تباہ کن بحری جہازوں نے میرسک ہانگژو سے مدد کی درخواست کا جواب دیا جو سنگاپور کا پرچم بردار اور ڈنمارک کی ملکیت اور اسی کے زیرِ انتظام چلنے والا جہاز ہے جس نے بحیرۂ احمر کو عبور کرتے ہوئے ایک میزائل حملے کی اطلاع دی۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ مدد کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے گریولی نے میزائل مار گرائے جو "بحری جہازوں کی طرف" داغے گئے تھے۔

یمنی باغی جنہوں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ، نقل و حمل کے راستے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جو عالمی تجارت کا 12 فیصد تک لے جاتا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ اس ماہ کے شروع میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے ایک کثیر القومی بحری ٹاسک فورس قائم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کا تازہ ترین دور اس وقت شروع ہوا جب فلسطینی مزاحمت کار گروپ نے 7 اکتوبر کو غزہ سے ایک غیر متوقع سرحد پار حملہ کیا جس میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق حملے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کو فوجی امداد بھیج دی جس نے غزہ میں ایک بے رحمانہ مہم چلائی جس میں کم از کم 21,672 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں بھی زیادہ تر عام شہری تھے۔

ان شہادتوں نے شرقِ اوسط میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیدا کیا ہے اور پورے خطے میں اسرائیل کے مخالف مسلح گروہوں کے حملوں کے لیے ایک تحریک فراہم کی ہے۔

عراق اور شام میں امریکی افواج بھی بارہا ڈرون اور راکٹ حملوں کی زد میں آ چکی ہیں جن کے بارے میں واشنگٹن کہتا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں