روس اور یوکرین

یوکرین کے روسی علاقے پرحملے کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرینی فوج کی طرف سے روسی علاقے بیلگورد پر ہونے والے حملے کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا۔

تازہ ترین پیش رفت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہفتے کی شام بیلگورد حملے پر بات چیت کرے گا، جس میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ روس نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا اور برطانیہ پر عاید کرتے ہوئے اس کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روسی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا کہ بیلگورد پر حملے کے بعد روس کی درخواست پرکل شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس معلومات کی تصدیق کونسل کے دو ارکان نے ایجنسی فرانس پریس کو کی ہے۔

اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یوکرین کی سرحد کے قریب روسی شہر بیلگورد پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی درخواست کی تھی۔

روسی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ امریکی اور برطانوی مشیروں نے بیلگورد میں یوکرین کی فوج کی طرف سے کی جانے والی "دہشت گردانہ کارروائی" میں براہ راست حصہ لیا۔

روسی وزارت دفاع نے کہا کہ بیلگورد پر یوکرین کے "بے ترتیب" حملوں میں دو بچوں سمیت 14 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے، جن میں کلسٹر بموں کا استعمال بھی شامل تھا۔ ماسکو نے یوکرین کی فوج کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

روسی وزارت برائے ایمرجنسی کے مطابق بمباری کے نتیجے میں10 مقامات پر لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے TASS کو اطلاع دی کہ شہر کے بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی گئی ہے اور اسے نقصان پہنچا ہے۔ بمباری کے نتیجے میں 40 کے قریب تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں