برطانیہ بحیرۂ احمر پر حملوں پر حوثیوں کے خلاف ’براہِ راست کارروائی‘ کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیرِ دفاع گرانٹ شیپس نے پیر کو کہا کہ برطانیہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف "براہِ راست کارروائی کرنے پر رضامند" ہے جنہوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔

لندن کا انتباہ جہاز رانی کے اہم راستے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے جبکہ امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں نے اتوار کو حوثی مزاحمت کاروں پر فائرنگ کی جنہوں نے سامان بردار جہاز پر سوار ہونے کی کوشش کی تھی۔

2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ اور بحیرۂ احمر کی ساحلی پٹی سمیت ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول حاصل کر لینے والے حوثی مزاحمت کاروں نے اپنے 10 سپاہیوں کے ہلاک یا لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔

حوثی -- جو کہتے ہیں کہ وہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں -- انہوں نے بار بار اس سمندری راستے سے گذرنے والے بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائل داغے ہیں جس کے ذریعے عالمی تجارت کے 12 فیصد کا گذر ہوتا ہے۔

تازہ ترین واقعے کے چند گھنٹے بعد شیپس نے کہا برطانیہ اپنی فوجی مداخلت بڑھا سکتا ہے۔ دسمبر کے وسط میں ایک برطانوی ڈسٹرائر (تباہ کن فوجی بحری جہاز) نے بحیرۂ احمر میں ایک مشتبہ حوثی حملہ آور ڈرون کو مار گرایا تھا۔

انہوں نے روزنامہ ٹیلی گراف اخبار میں لکھا، "ہم براہِ راست کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرات کو روکنے کے لیے مزید کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔"

حوثیوں کو "کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے: ہم غیر قانونی قبضوں اور حملوں کے لیے تخریب کار عناصر کی جواب طلبی کے لیے پرعزم ہیں۔"

شیپس نے خطے کی صورتِ حال کو "بین الاقوامی برادری کے لیے ایک امتحان" قرار دیا جس کے مضمرات دنیا بھر کے دیگر ممکنہ طور پر متنازعہ آبی گذرگاہوں پر ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا، "اگر ہم بحیرۂ احمر کی حفاظت نہ کریں تو اس سے جنوبی بحیرۂ چین اور کریمیا سمیت اور کہیں خطرہ بننے والوں کی حوصلہ افزائی کا خدشہ ہے۔"

"ہمیں اپنے اتحادیوں کی مضبوطی سے حمایت کرنے، اپنے عقائد پر ثابت قدم رہنے اور ان واقعات میں پھنسے معصوم لوگوں کے لیے ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے۔"

ٹیلی گراف نے کہا کہ لندن حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی حملوں کے لیے واشنگٹن کے ساتھ منصوبے بندی کر رہا ہے اور رپورٹ کیا کہ مزاحمت کاروں کو ان کے حملوں سے روکنے کی غرض سے حتمی انتباہ دینے کے لیے ایک مشترکہ بیان قریب تھا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر میں کشیدگی کے بارے میں اپنے ایرانی ہم منصب وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے بات کی تھی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر حوثیوں کے لیے تہران کی "دیرینہ حمایت" کو نوٹ کرتے ہوئے کہا، "میں نے واضح کیا کہ ایران ان حملوں کو روکنے کے لیے ساتھ مل کر ذمہ داری لے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں