خطے میں ہمارے حملے تہران کے مفادات کے متصادم نہیں ایرانی ملیشیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اورغزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے پھیلنے کے خطرات کے جلو میں تین اہم ایران نواز ملیشیاؤں سے وابستہ حکام نے بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان میں ایرانی ملیشیاؤں کا کہنا ہے کہ ان کے درمیان گذشتہ دو دھائیوں سے ہم آہنگی اپنی بہترین سطح پر ہے۔ جب سے خطے میں ایران نے اپنے وفادار گروپ تشکیل دیے اس کے بعد سے اب تک ان کی آپس میں ایسی ہم آہنگی نہیں دیکھی گئی جتنی آج کل ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ ملیشیا کے نمائندے ایک مشترکہ آپریشن روم کے ذریعے تعاون اور مشاورت کرتے ہیں۔ یہ بیروت میں باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں، مگر ماضی میں ایسا نہیں تھا۔

یہ ایران کے مقاصد سے متصادم نہیں

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ "اس علاقے کو کنٹرول کرنے والا کوئی ایک گروپ نہیں ہے اور ہر ایک کے پاس اس بات کی آزادی ہے کہ اس کے علاقے میں کون سے اور کب حملے کیے جائیں۔

مثال کے طور پر حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملہ کرنے کا کام لیا جس کا مقصد بین الاقوامی برادری پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرے۔

جبکہ عراقی ملیشیاؤں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیل کے لیے انتظامیہ کی حمایت کے جواب میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کو غزہ کے محاذ سے دور کرنے اور ان کی توجہ ہٹانے کے لیے سرحد پر جھڑپیں شروع کیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تمام کارروائیوں کو وسیع تر علاقائی جنگ سے بچنے کے لیے اس انداز میں منظم کیا گیا تھا، جس سے یہ تجویز کیا گیا کہ ملیشیا کو انفرادی کارروائیوں میں خود مختاری حاصل ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان کے اقدامات ایران کے اسٹریٹجک اہداف سے متصادم نہ ہوں۔

حسن نصراللہ کا قائدانہ کردار

حملوں کو انجام دینے والے سب سے بڑے عراقی گروپ حزب اللہ بریگیڈز کے ایک جنگجو نے کہا کہ "ملاقات کے دوران تمام محاذوں پر اپ ڈیٹس اور پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور اس بات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر محاذ کو حکمت عملی سے کس حد تک فائدہ پہنچا ہے"۔

دیگر افراد کی طرح اس نے داخلی بات چیت کے لیے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تاکہ اس کی شناخت کو مخفی رکھا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران ہر قسم کی مدد فراہم کرتا ہے، لیکن جب زمین پر فیصلوں اور اقدامات کی بات آتی ہے تو فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے"۔

اس کے علاوہ حکام نے اطلاع دی کہ "حزب اللہ کے رہ نما حسن نصر اللہ نے اتحاد کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا، کیونکہ وہ لڑائی میں سب سے پرانے، کامیاب اور سب سے زیادہ ٹھوس گروپ کی قیادت کرنے والی سب سے نمایاں شخصیت ہیں"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ نصراللہ دوسروں کے درمیان پہلی شخصیت کے طور پر نمودار ہوئے جب انہوں نے غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر کی تو عراقی ملیشیا بغداد کے تحریر اسکوائر میں اس تقریر کو دیو ہیکل اسکرینوں پر براہ راست دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے خطے میں ایران کے اتحادیوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور گذشتہ ہفتے شام میں اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر کمانڈر راضی موسوی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایران نے اس قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں