بھارت کے لیے بڑے تیل سپلائر روس سے بھارتی خرید داری ادائیگیوں کے سبب کم ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کرنے والے ملک بھارت کی اپنے سب سے بڑے تیل سپلائی کرنے والے ملک روس سے تیل کی خرید داری متاثر ہو کر نیچے کی طرف آ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ ادائیگیوں کے سلسلے میں آنے والی مشکلات ہیں۔ نتیجتاً دسمبر 2023 میں بھارت کی روس سے تیل کی خرید داری کم ترین رہی۔ یہ پورے سال 2023 میں سب سے کم تھی۔

تیل کی خرید داری سے متعلق اعدادو شمار فراہم کرنے والی انٹیلی جنس کمپنی 'کے پلر' کے مطابق 'سوکول ' سے لدے چھ آئل ٹینکر تیل کےساتھ دستیاب ہونے کے باوجود بھارت کو تیل نہیں دے رہے کہ بھارت روس پر سخت ترین پابندیوں کے باعث ادائیگیاں کرنے میں سخت مشکلات کا شکار ہے۔

ماہ مئی 2023 میں بھارت نے خام تیل کی روس سے خرید داری یومیہ بنیادوں پر سب سے زیادہ کی، جس کی سطح 2،15 ملین بیرل یومیہ تک چلی گئی تھی۔ لیکن اب معاملہ اس کے بر عکس ہو گیا ہے۔ ماہ نومبر اور دسمبر کے دوران بھارت نے یومیہ بنیادوں پر خام تیل کی خرید داری 1،48 ملین بیرل کی ہے۔

بھارتی ریفائیریز 2023 میں روزانہ کی بنیاد پر 140000 خریدتی رہیں۔ لیکن پچھل ماہ دسمبر میں انہیں دسمبر 2023 میں ایک بھی کارگو نہیں ملا ہے۔ سا ـ خالین نئی صورت حال میں 'ایل سی اکاؤنٹ' نہیں کھول سکا ہے۔ واضح رہے سا۔ـ خالین ، کہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے تیل خریدنے والے ملکوں کو درہم مین ادائیگیوں کا موقع رہے۔ جیسا کہ اتفاق کیا گیا تھا۔

تیل کی منڈی سے متعلق ماہر کا کہنا ہے بھارتی ساحلوں کے نزدیک چھ آئیل ٹینکر موجود رہے مگر اب وہ ایسے اشارے دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کو تیل فروخت کیے بغیر چین کی طرف جا سکتے ہیں۔ البتہ بتایا گیا ہے کہ روس سے بھارت کو سوکول کے درجے کے خام تیل کی پیداوار جاری رہ سکتی ہے۔

سال 2023 کے دوران بھارت روس سے تقریباً دو گنا تیل یعنی 1.79ملین بیرل یومیہ خریدتا رہا ہے۔ جبکہ بھارت کو تیل دینے والے دوسرے اہم سپلائر ملک عراق سے تیل کی یہ فروخت 11 فیصد کم ہو کر 908000 بیرل یومیہ رہ گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں