سعودی عرب اقتصادی تعاون کی تنظیم 'برکس' کا رکن بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے باضابطہ طور پر اقتصادی تعاون کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی پلیٹ فارم کی رکنیت حاصل کر لی ہے۔ اس امر کا اعلان سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے زریعے کیا گیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے ماہ اگست میں ہی اس امر کا عندیہ دے دیا تھا کہ مملکت اس اہم پلیٹ فارم کی رکنیت حاصل کر لے گا۔ تاہم انہوں نے کہا تھا مملکت پہلے اس اہم پلیٹ فارم سے متعلقہ دستاویزات کا مطالعہ کرے گا۔ جبکہ یکم جنوری 2024ء تک کی ڈیڈ لائن تک 'برکس' کی رکنیت لے لی جائے گی ۔

اب 2024ء کے آغاز سے پہلے سعودی عرب نے اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ اہم اقتصادی پلیٹ فارم کی رکنیت حاصل کر لی ہے بلکہ اس کا اعلان بھی سرکاری ٹی وی سے کردیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس سے قبل 'برکس' کے بارے میی کہا تھا کہ یہ ' بین الملکی سطح پر اقتصادی تعاون کا ایک مفید پلیٹ فارم ہے۔'

واضح رہے برکس کا قیام عمل میں لانے والے ملکوں میں برازیل، روس، انڈیا ،چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ کئی ملک اسے مستقبل کا بڑا اقتصادی اتحادی فورم دیکھ رہے ہیں۔

اس کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم دنیا میں پہلے سے چلی آرہی موثر بین الاقوامی کرنسی کے ساتھ ساتھ متبادلات کو بھی لانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں