ڈنمارک کے میرسک کا حوثیوں کے حملے کے باوجود سویز کے سفر کا جدول جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ڈنمارک کے میرسک کے پیر کو تادیر جاری ہونے والے جدول میں دکھایا گیا ہے کہ ہفتے کے آخر میں اپنے ایک بحری جہاز پر حملے کے باوجود وہ بدستور اس علاقے میں مستقبل میں نہر سویز اور بحیرۂ احمر کے ذریعے 30 سے زیادہ کنٹینر جہاز چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لیکن میرسک نے یمن کے حوثیوں کے حملوں کے مسلسل خطرے کے درمیان کچھ جہازوں کے بحیرۂ احمر کا راستہ استعمال کرنے کے منصوبے کو یہ کہتے ہوئے روک بھی دیا کہ وہ ہر جہاز کے سفر کا اعلان بعد میں کرے گا۔

میرسک نے اتوار کو بحیرۂ احمر کا تمام سفر 48 گھنٹوں کے لیے روک دیا جب ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے اس کے میرسک ہانگزو جہاز پر سوار ہونے کی کوششیں کی گئیں حالانکہ بالآخر امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں نے حملے کو پسپا اور 10 مزاحمت کاروں کو ہلاک کر دیا۔

برسوں کی جنگ کے بعد یمن کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرنے والے حوثی گروپ نے نومبر میں بحیرۂ احمر سے گذرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں پر یہ کہہ کر حملہ کرنا شروع کر دیا کہ یہ حماس کے زیرِ اقتدار غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کا جواب تھا۔

بڑے جہازرانی گروپس بشمول بڑی کنٹینر کمپنیوں میرسک اور ہاپاگ-لائیڈ نے گذشتہ ماہ بحیرۂ احمر کے راستوں اور سویز نہر کا استعمال بند کر دیا تھا اور اس کے بجائے راس امید کے راستے افریقہ کے گرد طویل سفر اختیار کیا۔

لیکن بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں فوجی آپریشن کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے میرسک نے 24 دسمبر کو کہا کہ وہ بحیرۂ احمر میں واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی اولین ترجیح عملے، بحری جہازوں اور مالِ تجارت کی حفاظت ہے اور یہ کہ اس کا لائحہ عمل "جہاز در جہاز کی بنیاد پر" اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے جن میں سے کچھ براستہ سویز سفر کریں گے اور دیگر افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کریں گے۔

میرسک کے تازہ ترین سفر نامے کا گذشتہ ہفتے جاری کردہ سفر نامے سے ایک تفصیلی موازنہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی نے بحیرۂ احمر کے ذریعے سفر کرنے کے لیے کم از کم 17 بحری جہازوں کا منصوبہ روک رکھا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نئے منصوبوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جہازوں کو راس امید کے گرد نئے راستے سے بھیجا جائے گا۔

میرسک نے اپنے جدول پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

حریف کمپنی ہاپاگ-لائیڈ نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر اپنے جہازوں کو سویز اور بحیرۂ احمر سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مزید کہا کہ اگلا جائزہ منگل کو کیا جائے گا۔

میرسک کے مطابق کمپنی کی اتحادی شراکت دار میڈیٹرینین شپنگ کمپنی (ایم ایس سی) اپنے تمام جہازوں کو مسلسل راس امید کے راستے بھیج رہی ہے۔

اس نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

عالمی کنٹینر بحری جہازوں سے مال برداری کے تقریباً ایک تہائی حصے کے لیے نہر سویز کا راستہ استعمال کیا جاتا ہے اور افریقہ کے جنوبی سرے کے ارد گرد بحری جہازوں کا رخ موڑ دینے پر ایشیا اور شمالی یورپ کے درمیان ہر دوطرفہ سفر کے لیے 1 ملین ڈالر کے اضافی ایندھن کا خرچ متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں