فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل اور لبنان کے درمیان صورتحال کے پیش نظراہم امریکی عہدیدار اسرائیل آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سنیئر عہدیدار ہوچسٹین اسی ہفتے اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اسرائیلی سیکورٹی کے امور سے متعلق ذرائع نے یہ کہا ہے 'ہوچسٹین کا یہ دورہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تازہ پیدا شدہ صورتحال کے پس منظر میں ہے۔ جس میں خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ غزہ کی جنگ زیادہ دور تک پھیل سکتی ہے۔'

آموس ہوچسٹین کو صدر جوبائیڈن نے پچھلے ہی ماہ وائٹ ہاؤس میں نئی ذمہ داری تھی تاکہ مشرق وسطیٰ میں امکانی طور پر پھیلتی ہوئی جنگ کو روکنے میں وہ اہم کردار ادا کرسکیں۔ صدر جوبائیڈن کے سینیئر معاون ہوچسٹین اس سے پہلے اسرائیل اور لبنان کے درمیان توانائی ذرائع سے متعلق ایک اہم معاہدہ ممکن بنا چکے ہیں۔ اس معاہدے کے سلسلے میں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔

واضح رہے صدر جوبائیڈن ہوچسٹین کی صلاحیتوں پر خوب اعتماد کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے وائٹ ہاؤس میں بطور صدر آتے ہی آموس ہوچسٹین سے پوچھا تھا کہ آیا اسرائیل اور لبنان کے درمیان توانائی کا دیرینہ تنازعہ طے ہوسکتا ہے۔ جس کے بعد انہیں یہ کر دکھایا گیا۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اگرچہ صورتحال کافی کشیدہ ہو رہی ہے لیکن جوبائیڈن کے سینیئر معاون کا دورہ فی الحال صرف اسرائیل تک شیڈول کیا گیا ہے۔ بیروت ان کے دورے کا فی الحال حصہ نہیں ہے۔ واضح رہے پچھلے ہی دنوں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان بھی اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں۔ امریکی سینٹ کام کے سربراہ نے بھی خطے میں اپنی مصروفیات کو تیز کیا جبکہ اسرائیل کے سٹریٹیجک امور کے وزیر نے پچھلے ہی ماہ امریکی دورہ کیا ہے۔

یہ سب دورے غزہ اور خطے کی صورتحال کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی خاطر رہے۔ کیونکہ امریکہ بار بار اپنے خدشے کا اظہار کرتا ہے کہ غزہ کی جنگ غزہ سے باہر پھیل سکتی ہے اور خصوصاً لبنان کی طرف اس کے پھیلاؤ کا خظرہ زیادہ ہے۔ امریکہ کا جنگ پھیلنے کا یہ خطرہ منگل کے روز اور بڑھ گیا جب حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کو اسرائیل نے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے متعدد کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بدھ کی رات ایرانی پاسداران انقلاب کے مقتول سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی یاد میں ایک خطاب کرنے والے ہیں۔

بیروت کے نزدیک العاروری کی ہلاکت کے بعد حزب اللہ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ العاروری کی شہادت پر اسرائیل کو بغیر سزا کے نہیں رہنے دیا جائے گا۔ جبکہ امریکہ بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کے لبنان کی طرف پھیلاؤ کی حمایت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام یہ بات کہہ رہے ہیں کہ حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کا ایک معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ جس کے تحت حزب اللہ اسلحے کے ساتھ سرحد پر موجود نہیں رہے گی۔ فرانس کے مطابق یہ ایک بفر زون کا تصور ہوگا۔ اسرائیل کو یہ توقع ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ ایسا معاہدہ ہونے کی صورت میں اس کے ہزاروں شہری جو لبنانی سرحد کے قریب واقع اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں، ان اسرائیلیوں کو واپس اپنے گھروں میں آنے کا موقع ملے گا۔ تاہم اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر حزب اللہ نے ایسا معاہدہ نہ کیا تو اسرائیل لبنان کو بھی غزہ بنادے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق 64 ہزار سے زائد لبنانی جنگ کی وجہ سے جنوبی لبنان میں واقع اپنے گھروں سے بےگھر ہوچکے ہیں۔

اسرائیل چاہتا ہے کہ ایک خاص فاصلے تک حزب اللہ بھی سرحد سے پیچھے چلی جائے اور اسرائیل بھی اسی فاصلے کے برابر اپنی فوج کو پیچھے لے آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں