امریکی ریاست نیو جرسی میں مسجد کے باہر امام مسجد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیو جرسی کے ایک علاقے میں امام مسجد حسن شریف کو منگل کے روز نماز فجر کے واقت مسجد کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک امریکی پولیس دہشت گردی میں ملوث کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکی۔ البتہ اٹارنی جنرل نے اسے مسلم دشمنی کا واقعہ تسلیم نہیں کیا ہے۔

ایسیکس کاؤنٹی پراسیکیوٹر ٹیڈ سٹیفن نے اس واقعے کا ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا ہے۔ فجر کے وقت گولیوں کا نشانہ بننے پر امام مسجد کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور سہ پہر کے وقت وفات پا گئے۔

امریکی اٹارنی جنرل میٹ پلیٹکن نے اس بارے میں اپنی 'فائنڈنگز' کا اعلان کرتے ہوئے کہا ' سیکیورٹی حکام ابھی گولیاں مارنے والے ' شوٹر' کو تلاش کر رہے، تاہم کوئی ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں کہ یہ واقعہ مسلم دشمنی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔

امریکی سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے ذمہ داروں کو دہشت گرد قرار نہیں دیا ہے۔ نہ ہی کسی کے لیے سہولت کار کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ جیسا کہ دوسرے ملکوں میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے فوراً یہ الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیے جاتے ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل نے مزید کہا ' قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سات اکتوبر سے سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ '

میٹ پلیٹکن نے کہا ' میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے واقعات سے آگاہ ہوں ، اس لیے ہمارے ملک میں بسنے والی مختلف اقوام میں تعصب بڑھا ہوا ہے ، خصوصاً مسلمانوں میں۔ اس وقت نیو جرسی میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں خوف رہتا ہے۔ کہ وہ قتل کے واقعات کی خبریں دیکھتے ہیں۔ '

واضح رہے امام مسجد حسن شریف مسجد میں بطور امام پانچ سال سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ پبلک سیفٹی ڈائریکٹر فرٹز فریج نے امام مسجد کے بارے میں کہا انہیں مذہبی ہم آہنگی کے لیڈر کے طور پر یاد رکھا جائے گا انہوں نے شہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اہم کردار دا کیا۔'

ڈائریکٹر فریج کا کہنا تھا' ہم آپ سب کے درد کو محسوس کر سکتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے تمام وسائل ان کے لیے بروئے کار لائیں گے جو امریکہ کے مسلسل پارٹنر کے طور پر یہاں مجود ہیں، ہم یقینی بنائیں گے کہ سنگین جرائم ختم ہوں۔'

نیو جرسی میں کونسل برائے امریکہ اسلامک تعلقات ( کئیر) کی شاخ کے لیے ترجمان دینا سید احمد نے کہا ہے' ہم ابھی معلومات جمع کر رہے ہیں، اس لیے تمام لوگوں کو چاہیے کہ مقامی پولیس کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں