امریکی قیادت میں جلد ہی یورپی فورسز بھی جہاز رانی کے تحفظ کے مشن میں شامل ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی قیادت میں گذشتہ ماہ شروع کیے گئے کثیر القومی بحری فوجی اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کے لیے مشاورت اگلے ہفتے باضابطہ طور پر شروع ہونے والی ہے۔

ایک نئی بحری طاقت

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے میں تعاون کے لیے یورپی بحری فوج کی تشکیل پر مشاورت جلد شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت کا مقصد یورپی مشن اور امریکی بیڑے سمیت دیگر مشن کے بحری بیڑوں کے درمیان ہم آہنگی کے امکانات پر غور کرنا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد یورپی "اٹلانٹا" مشن کے درمیان ہم آہنگی کے امکان پر بھی غور کرنا ہے جو 2008ء سے صومالیہ اور قرن افریقہ کے پانیوں پر کام کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان غزہ میں جاری جنگ کی توسیع کے خدشات کے پیش نظر سامنے آئی ہے، خاص طور پر جب واشنگٹن نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی نیویگیشن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز علاقائی پانیوں میں تعینات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے غیر قانونی اور بلاجواز حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرے کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات سے دریغ نہیں کرے گا۔

فوجی اتحاد

قابل ذکرہے کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر 2023ء کو فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے اپنے دعوے کے مطابق اسرائیل کی طرف جانے والے یا اسرائیل سے تعلق رکھنے والے تجارتی جہازوں پر درجنوں حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں