ایران

ایران میں آج قومی سوگ کا اعلان، کرمان حملے کا سخت رد عمل ہوگا: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں سابق پاسداران انقلاب کمانڈر قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی کے موقعے پر ان کےمزار پر ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے بعد آج جمعرات کو ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکوں میں ملوث دشمن کو سخت جواب دینے کا عہد کیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے یہ بات زور د ے کر کہی ہے کہ بدھ کے روز کرمان کو ہلا دینے والے "دہشت گردانہ حملے" کا "سخت جواب دیا جائے گا"۔

ادھر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ "یقینی طور پر کرمان میں دہشت گردانہ حملے میں ملوث دشمن سے بدلہ لیں گے"۔

ایران میں بدھ کی شام پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے مزار پر ان کی برسی کے موقعے پر جمع لوگوں کے ھجوم میں دھماکے ہوئے جن میں تقریباً 103 افراد ہلاک اور 188 زخمی ہوئے۔

جمعرات کو ایران نے سلیمانی کے قتل کی یاد میں ہونے والی تقریبات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ کم از کم 188 کے زخمی ہونے کے بعد قومی سوگ کا اعلان کیا۔

بعد ازاں ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے اعلان کیا کہ "کرمان میں حالات اب معمول پر ہیں اور سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں"۔

وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ "کرمان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کا جواب زبردست اور جلد از جلد دیا جائے گا"۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی نے کہا کہ "سکیورٹی سروسز کرمان بم دھماکوں کے مجرموں کو بے نقاب کرنے کی پابند ہیں"۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سلیمانی ایران کی علاقائی عسکری سرگرمیوں کے معمار تھے اور انہیں ایران میں مذہبی حکومت کے حامیوں میں ایک قومی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو محفوظ بنانے میں بھی مدد کی۔

سہ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے تک ایران میں نسبتاً نامعلوم سلیمانی کی مقبولیت اور اسرار میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی حکام نے اس کے قتل کا مطالبہ کیا کیونکہ اس کی مدد سے عسکریت پسندوں کو سڑک کے کنارے نصب بموں سے مسلح کیا گیا جس نے امریکی افواج کو ہلاک اور معذور کیا تھا۔

ڈیڑھ دہائی بعد سلیمانی ایران کا سب سے مشہور فیلڈ کمانڈر بن گیا ہے، جس نے ایرانی سیاست میں داخل ہونے کے مطالبات کو نظر انداز کیا لیکن اس کی سویلین قیادت کی طرح طاقتور لیڈر کے طور پر کام کیا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے شروع کیے گئے ڈرون حملے کے نتیجے میں جنرل سلیمانی کی موت واقع ہوئی

2020 میں سلیمانی کے جنازے میں بھگدڑ مچ گئی جس میں کم از کم 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں