غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاء کے اسرائیلی اعلان پریشان کن ہیں: یو این عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ والکر ترک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے سینیر حکام کی طرف سے فلسطینیوں کے غزہ سے انخلاء کا مطالبہ پریشان کن ہے۔ ترک کا یہ بیان 'ایکس' پر جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔

یہ بات اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بین گویر نے پیر کے روز کہا تھا ' کہ مسئلے کا بہتر حل یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نقل مکانی کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے اور غزہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی جائے۔'

یہی ریمارکس اگلے روز وزیر خزانہ بذلیل سموٹریچ نے کہہ دیے۔ نیز یہ بھی شامل کر دیا کہ یہودی آباد کاروں کو واپس غزہ لا کر بسایا جائے ، اس مقصد کے لیے اسرائیل کو چاہیے کہ وہ 24 لاکھ فلسطینیوں کی نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کرے۔'

والکر ترک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کہ لوگوں کو وہ کسی تیسرے ملک میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین القوامی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقے میں محفوظ لوگوں کا زبردستی انخلا کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ کی 24 لاکھ کی فلسطینی آبادی کے جبری انخلا کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھی بین گویر کے اس بیان کو مسترد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران غزہ میں بیس لاکھ سے زائد فلسطنیوں کے گھروں کو بمباری کر کے انہیں بے گھر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں